حرم بی بی سکینہ پر تکفیری دھشتگردوں کے حملوں کے بعد کی تصاویر

شام میں مسلح تکفیری سلفی وہابی دہشت گردوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی بیٹی حضرت بی بی سکینہ (س) کے طلائی گنبد پر کئی راکٹ فائر کرکے اسے شہید کردیا۔ 

 شام میں مسلح تکفیری سلفی وہابی دہشت گردوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی بیٹی حضرت بی بی سکینہ (س) کے طلائی گنبد پر کئی راکٹ فائر کرکے اسے شہید کردیا ہے۔ سلفی وہابی دہشت گردوں نے دمشق کے قریب داریا علاقہ میں حضرت بی بی سکینہ (س) کے روضہ پر کئي راکٹ فائر کئے جس کے نتیجے میں روضہ مبارک کا طلائی گنبد شہید ہوگيا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شامی فوج اور عوام نے ملکر داریا علاقہ سے دہشت گردوں کو باہر نکال دیا تھا لیکن دہشت گرد دور سے ہی اس حرم مطھر پر راکٹ حملے کرتے اور اسے شہید کرنے کی کوشش کرتے ہیں دریں اثنا تکفیریوں کے تازہ ترین حملوں میں حرم بی بی سکینہ (س) کا گنبد طلائی شہید ہو گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سلفی وہابی دہشت گرد ، پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) اور ان کی آل پاک (ع)  کے سخت دشمن ہیں ، سلفی وہابی دہشت گرد معاویہ اور یزید اور بنی امیہ خاندان کے حامی ہیں۔









HAZRAT ALI (as)


HAZRAT ALI (as) 





"Bewqoof aurat Apne shohar ko apna Ghulam banati hai aur khud Ghulam ki Biwi ban jati hai.

Jab ke Aqalmiand aurat apne Shohar ko Badshah banati hai aur khud Badshah ki Mallika banjati hai."


امام رضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں



اللہ پر حسن ظن رکھو اور خوش گمان رہو کیونکہ خداوند عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے مؤمن بندے کے حسن ظن کے ساتھ ہوں، اگر اس کا گمان اچھا ہے تو میرا سلوک بھی نیک ہوگا اور اگر اس کا خیال میرے بارے میں برا ہے تو میرا سلوک بھی اس کے اچھا نہ ہوگا۔ 


بسم الله الرحمن الرحيم
قال الامام علی بن موسی الرضا علیہ السلام

1۔ تین خصلتیں تین سنتیں


لا یكون المؤمن مؤمنا حتی تكون فیه ثلاث خصال ، سنة من ربه، وسنة من نبیه، وسنة من ولیه. فاما السنة من ربه فكتمان سره ، و اما السنة من نبیه فمداراة الناس ، و اما السنة من ولیه فالصبر فی البأساء و الضراء۔

اصول کافی ، ج 3 ، ص (339)۔

مؤمن، حقیقی مؤمن نہیں ہے مگر یہ کہ تین خصلتوں کا حامل ہے: ایک سنت اللہ کی، ایک سنت اپنے پیغمبر(ص) کی اور ایک سنت اپنے امام کی۔ خدا کی سنت اپنا راز چھپا کر رکھنا ہے، پیغمبر(ص) کی سنت لوگوں کے ساتھ رواداری اور نرم خوئی ہے اور اس کے امام کی سنت تنگدستی اور پریشانی کے وقت صبر ہے۔ 

2۔ چھپ کر نیکی کرنا
المستتر بالحسنة یعدل سبعین حسنة، والمذیع بالسیئة مخذول ، والمستتر بالسیئة مغفور له۔ 
اصول کافی ، ج 4 ، ص (160)۔ 
نیک کام چھپا کر کرنے والے کا ثواب 70 حسنات کے برابر ہے، اعلانیہ بدی کرنے والا شرمندہ اور تنہا ہے اور (دوسروں کے) برے کام کو چھپانے والا بخشا ہوا ہے۔ 



3۔ انبیاء کا اخلاق 
من أخلاق الانبیاء التنظف۔ 
انبیاء کے اخلاقیات میں نظافت اور پاکیزگی شامل ہے۔ 
تحف العقول ، ص (466)۔ 

4۔ آدمی کا دوست اور دشمن
صدیق كل امرء عقله وعدوه جهله۔ 
تحف العقول ، ص (467)۔ 
آدمی کا دوست اس کی عقل اور اس کا دشمن اس کا جہل و نادانی ہے۔ 

5۔ عقل کامل کے لئے دس خصلتیں ضروری ہیں 
لا یتم عقل امرء مسلم حتی تكون فیه عشر خصال ، الخیر منه مأمول ، و الشر منه مأمون ، یستكثر قلیل الخیر من غیره ، و یستقل كثیر الخیر من نفسه ، لا یسأم من طلب الحوائج الیه ، و لا یمل من طلب العلم طول دهره ، الفقر فی الله احب الیه من الغنی ، و الذل فی الله احب الیه من العز فی عدوه ، و الخمول أشهی الیه من الشهرة . ثم قال ( علیه السلام) : العاشرة و ما العاشرة ! قیل له : ما هی ؟ قال ( علیه السلام) : لا یری أحدا الا قال : هو خیر منی و أتقی۔ 
تحف العقول ، ص (467)
مسلمان شخص کی عقل کامل نہیں ہے مگر یہ کہ وہ دس خصلتوں کا مالک ہو: اس سے خیر و نیکی کی امید کی جاسکے، لوگ اس سے امن وامان میں ہوں، دوسروں کی مختصر نیکی کو بڑا سمجھے، اپنی خیر کثیر کو تھوڑا سمھجے، اس سے جتنی بھی حاجتیں مانگی جائیں وہ تھک نہ جائے، اپنی عمر میں طلب علم سے اکتا نہ جائے، خدا کی راہ میں غربت اس کے نزدیک مالداری سے بہتر ہو، خدا کی راہ میں ذلت اس کے نزدیک خدا کے دشمن کے ہاں عزت پانے سے زیادہ پسندیدہ ہو، گم نامی کو شہرت سے زیادہ پسند کرتا ہو، اور پھر فرمایا: اور دسویں خصلت کیا ہے اور کیا ہے دسویں خصلت؟ عرض کیا گیا: آپ فرمائیں وہ کیا ہے؟ فرمایا: جس کسی کو بھی دیکھے کہہ دے کہ وہ مجھ سے زیادہ بہتر اور زيادہ پرہیزگار ہے۔ 

6۔ یقین سب سے افضل 
إن الایمان افضل من الاسلام بدرجة ، و التقوی افضل من الایمان بدرجة ، و لم یعط بنو آدم افضل من الیقین۔ 
تحف العقول ، ص (469)
ایمان اسلام سے ایک درجہ افضل ہے اور تقوی ایمان سے ایک درجہ بالاتر ہے اور فرزند آدم کو یقین سے افضل کوئی چیز عطا نہیں ہوئی۔ 

7۔ ایمان کیا ہے؟ 
والایمان أداء الفرائض واجتناب المحارم والایمان هومعرفة بالقلب وإقرار باللسان وعمل بالاركان۔ 
تحف العقول ، ص (444)۔ 
ایمان واجبات و فرائض پر عمل اور افعال حرام سے دوری ہے۔ ایمان دلی عقیدہ زبانی اقرار اور اعضاء و جوارح کے ساتھ عمل و کردار ہے۔ 

8۔ انبیاء کا اسلحہ اٹھاؤ 
علیكم بسلاح الأنبیاء، فقیل: وما سلاح الأنبیاء ؟ قال: الدعاء۔ 
اصول کافی ، ج 4 ، ص (214)
امام ہمیشہ اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء کا اسلحہ اٹھاؤ، کہا گیا: انبیاء کا اسلحہ کیا ہے؟ فرمایا: دعاء۔ 

9۔ صلہ رَحِم 
صل رحمك و لو بشربة من ماء ، وافضل ما توصل به الرحم كف الأذی عنها۔ 
تحف العقول ، ص (469)
قرابتداری کا پیوند برقرار کرو حتی اگر وہ ایک گھونٹ پانی کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، اور قرابتداری کا بہترین پیوند یہ ہے کہ قرابتداروں کو آزار و اذیت پہنچانے سے پرہیز کیا جائے۔ 

10۔ فہم دین کی نشانیاں 
إن من علامات الفقه : الحلم و العلم ، و الصمت باب من ابواب الحكمة ، إن الصمت یكسب المحبة ، إنه دلیل علی كل خیر۔ 
تحف العقول ، ص (469)
فہم دین کی نشانیوں میں حلم اور علم شامل ہیں اور خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک ہے۔ خاموشی دوستی اور محبت کماتی ہے اور ہر نیکی کی طرف راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ 

11۔ گوشہ نشینی اور خاموشی کا زمانہ 
یأتی علی الناس زمان تكون العافیة فیه عشرة اجزاء : تسعة منها فی اعتزال الناس و واحد فی الصمت۔ 
تحف العقول ، ص (470)
وہ وقت لوگوں پر آئے گا جب عافیت کے دس اجزاء ہونگے: 9 اجزاء لوگوں سے دوری اور گوشہ نشینی میں ہونگے اور ایک جزء خاموشی میں۔ 

12۔ توکل کی تعریف 
سئل الرضا ( علیه السلام ) عن حد التوكل ، فقال ( ع ) : أن لا تخاف احدا الا الله۔ 
تحف العقول ، ص (469)۔ 
امام رضا علیہ السلام سے توکل کی حقیقت اور اس کی تعریف کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: توکل یہ ہے کہ خدا کے سے کسی نہ نہ ڈرو۔ 

13۔ چار افراد چار چیزوں سے محروم 
لیس لبخیل راحة ، و لا لحسود لذة ، و لا لملوك وفاء ، و لا لكذوب مروة۔ 
تحف العقول ، ص (473)۔ 
بخیل اور کنجوس کے لئے چین اور آسائش نہيں ہے، حسد کرنے والے کے لئے کوئی لذت نہیں ہے، بادشاہوں میں وفا نہيں ہے اور جھوٹے شخص میں مروت اور جوانمردی نہيں پائی جاتی۔ 

14۔ حسن ظن، قناعت اور ۔۔۔ 
أحسن الظن بالله ، فإن من حسن ظنه بالله كان عند ظنه ، ومن رضی بالقلیل من الرزق قبل منه الیسیر من العمل ، ومن رضی بالیسیر من الحلال خفت مؤونته ونعم أهله و بصره الله داء الدنیا و دواءها واخرجه منها سالما الی دار السلام۔ 
تحف العقول ، ص (472)
خدا پر حسن ظن رکھو کیونکہ جو خدا پر حسن ظن رکھے خدا اس کے حسن ظن کے ساتھ ہے۔ اور جو بھی تھوڑے سے رزق پر راضی و خوشنود (اور قانع) ہو خدا اس کا مختصر سا عمل قبول فرماتا ہے، اور جو تھوڑے سے حلال رزق پر خوشنود ہو اس کے اخراجات کم ہونگے اور اس کا خاندان نعمتوں میں پلے گا اور خداوند متعال اس دنیا کے دکھوں اور دواؤں سے بصیرت عطا کرتا ہے اور اس دنیا سے سلامتی کے ساتھ جنت کے دارالسلام میں منتقل کرتا ہے۔ 

15۔ ایمان کے چار ارکان 
الایمان أربعة أركان: التوكل علی الله، والرضا بقضاء الله، و التسلیم لأمر الله، و التفویض الی الله۔ 
تحف العقول ، ص (469)
ایمان چار ارکان پر مشتمل ہے: خدا پر توکل، خدا کی قضا پر راضي ہونا، خدا کے امر کے سامنے تسلیم ہونا اور اپنے امور کو خدا کے سپرد کرنا۔ 

16۔ بہترین بندے 
سئل (علیه السلام) عن خیار العباد، فقال: الذین اذا أحسنوا استبشروا، واذا اساءوا استغفروا، واذا أعطوا شكروا، و اذا ابتلوا صبروا، واذا غضبوا عفوا۔ 
تحف العقول ، ص (469)
امام رضا علیہ السلام سے بہترین بندوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ جب نیکی کرتے ہیں، خوش ہوجاتے ہیں، جب برا عمل کرتے ہیں، استغفار کرتے ہیں، جب ان کو کچھ عطا کیا جاتا ہے، شکر کرتے ہیں، جب بلا اور مصیبت سے دوچار ہوتے ہیں صبر کرتے ہیں اور جب غضبناک ہوتے ہیں، درگذر کرتے ہیں۔ 

17۔ دنیاوی زندگانی 
سئل الامام الرضا ( علیه السلام ) عن عیش الدنیا ، فقال: سعة المنزل وكثرة المحبین۔ 
بحار الانوار ، ج 76، ص (152)۔ 
امام رضا علیہ السلام سے دنیا کی خوشحال زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وسیع گھر اور دوستوں کی کثرت۔ 

18۔ قیامت کے دن فراخی چاہتے ہو تو۔۔۔ 
من فرج عن مؤمن فرج الله عن قلبه یوم القیامة۔ 
اصول کافی ، ج 3 ، ص (268)
جو شخص کسی مؤمن کا مسئلہ حل کرے اور اداسی کو اس سے دور کردے خداوند متعال روز قیامت غم و اندوہ کو اس کے قلب سے دور کردیتا ہے۔ 

19۔ مؤمن کے دل کو خوش کیا کرو 
لیس شیء من الاعمال عند الله عزوجل بعد الفرائض افضل من إدخال السرور علی المؤمن۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (347)۔ 
اللہ عزوجل کے نزدیک فرائض کی انجام دہی کے بعد کوئی بھی عمل مؤمن کے دل میں خوشی داخل کرنے سے افضل نہیں ہے۔ 

20۔ ایک دوسرے کے ساتھ دوست رہا کرو 
تزاوَرُوا تحـابـوا و تصـافحُـوا۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (347) 
ایک دوسرے کے ملنے جایا کرو، ایک دوسرے سے دوستی اور محبت کیا کرو۔ (متعدد روایات میں منقول ہے کہ: ہمارے امر کو زندہ رکھنے کے لئے، ایک دوسرے کو ہماری حدیث بیان کرنے کے لئے ملتے رہا کرو اور یہ کہ تمہارے میل جول میں ہمارے مکتب کی حیات ہے چنانچہ ملنا اگر لہو و لعب کے لئے ہو تو اس میں کوئی فضیلت نہيں ہے)۔ 

21۔ دین و دنیا کے امور مخفی رکھو 
علیكم فی أموركم بالكتمان فی أمور الدین و الدنیا ، فإنه روی " أن الإذاعة كفر " و روی " المذیع و القاتل شریكان " و روی " ما تكتمه من عدوك فلا یقف علیه ولیك"۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (347)
تم پر لازم ہے کہ اپنے دین و دنیا کے امور میں رازدار رہو، روایت ہوئی ہے کہ "فاش کرنا کفر ہے"، اور روایت ہوئی ہے کہ "جو اسرار کو فاش کرتا ہے وہ قاتل کے ساتھ قتل میں شریک ہے"، اور روایت ہوئی ہے کہ "جس چیز کو تم دشمن سے خفیہ رکھتے ہو تمہارا دوست بھی اس سے واقف نہ ہونے پائے"۔ (حدیث کے متن سے ظاہر ہے کہ کن کن امور کو چھپانا چاہئے)۔ 

22۔ چار لوگوں کے ساتھ چار رویئے اختیار کرو 
اصحاب السلطان بـالحَذر، وَ الصـّدّيق بـالتّـواضُع، وَ العدوّ بـالتّحرُز، وَ العامّة بالبشـر۔ 
بحارالانوار،ج 78، ص 356. 
سلطان اور حاکم کے اصحاب اور حاشیہ برداروں سے دوری اختیار کرو؛ 
دوست کے ساتھ خاکسارانہ رویہ رکھو؛ 
دشمن کے ساتھ احتیاط اور اجتناب کا رویہ اختیار کرو؛ اور 
لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا کرو۔ 

23۔ اس شخص سے امید مت رکھو 
خمس من لم تكن فيه فلا ترجوه لشئ من الدنيا والاخرة: من لم تعرف الوثاقة في أرومته والكرم في طباعه، والرصانة في خلقه والنبل في نفسه، والمخافة لربه.
پانچ چیزیں اگر کسی میں نہ ہوں تو دنیا اور آخرت کے بارے میں اس سے امید وتوقع وابستہ نہ کرو: وہ جس کے وجود میں اعتماد نہ دیکھ سکو؛ وہ جس کی طینت میں کرم اور بزرگواری و جوانمردی نہ دیکھ سکو، وہ جس کے اخلاق اطوار میں استحکام و استواری نہ پاسکو، وہ جس کے نفس میں نجابت و شرافت نہ پاسکو اور وہ جس کے وجود میں خدا کا خوف نہ پاسکو۔ 

24۔ کس کا اجر مجاہد سے بھی بڑھ کر ہے؟ 
ان الذی یطلب من فضل یكف به عیاله أعظم أجرا من المجاهد فی سبیل الله۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (339)۔ 
بے شک جو اپنے اہل و عیال کے لئے رزق و روزی وسیع کرنے کی کوشش کررہا ہے اس کا اجر و انعام خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد سے بھی بڑھ کر ہے۔ 

25۔ حب آل محمد(ص) اور نیک اعمال ایک دوسرے کے بغیر نامکمل 
لا تدعوا العمل الصالح و الاجتهاد فی العبادة اتكالا علی حب آل محمد ( علیهم السلام ) ، لا تدعوا حب آل محمد (علیهم السلام) و التسلیم لأمرهم اتكالا علی العبادة ، فإنه لا یقبل أحدهما دون الَاخر۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (347)۔ 
(خبردار) نیک اعمال اور عبادت میں کوشش کو آل محمد(ص) کی محبت کے سہارے ترک نہ کرنا، اور (خبردار) کہیں ایسا نہ ہو کہ آل محمد(ص) کی محبت اور ان کی فرمانبرداری کو عبادت کے سہارت ترک نہ کرنا، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر قابل قبول نہیں ہیں۔ 

26۔ تفکر عبادت ہے 
لیس العبادة كثرة الصیام والصلاة، وانما العبادة كثرة التفكر فی أمر الله۔ 
تحف العقول ، ص (466)۔ 
عبادت زیادہ روزہ رکھنا اور زیادہ نماز پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ بے شک امر خدا میں زیادہ غور وتفکر کرنا ہے۔ 

27۔ ہماری صورت حال 
قیل له: وكیف اصبحت؟ قال (ع ): اصبحت بأجل منقوص، وعمل محفوظ ، والموت فی رقابنا، والنار من ورائنا، ولا ندری ما یفعل بنا۔ 
تحف العقول ، ص (470)۔ 
عرض کیا گیا: یابن رسول اللہ(ص)! رات کیسے گذار دی؟ فرمایا: عمر کم ہوئی، کردار ثبت ہوا، اور موت ہماری گردن پر ہے اور دوزخ ہمارا پیچھا کررہا ہے اور ہم (یعنی انسان) نہیں جانتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا!۔ 

28۔ تین خصلتوں سے حقیقت ایمان تک پہنچ سکتے ہو 
لا یستكمل عبد حقیقة الایمان حتی تكون فیه خصال ثلاث: التفقه فی الدین، وحسن التقدیر فی المعیشة ، والصبر علی الرزایا۔ 
تحف العقول ، ص (471)۔ 
کوئی بھی بندہ کمالِ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ تین خصلتوں کا مالک نہ ہو: دین میں سمجھ بوجھ، معیشت میں تدبیر اور اندازہ رکھنا، اور مصائب اور بلاؤں پر صبر۔ 

29۔ قرآن میں ہدایت تلاش کرو 
قال الریان للرضا (ع): ما تقول فی القرآن؟ فقال: كلام الله لا تتجاوزوه، ولا تطلبوا الهدی فی غیره فتضلوا۔ 
بحار الانوار ، ج 92، ص (117)
ریان بن صلت نے امام رضا علیہ السلام سے پوچھا: قرآن کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ امام(ع) نے فرمایا: قرآن خدا کا کلام ہے، اس سے تجاوز نہ کرو اور قرآن کے بغیر کسی اور سے ہدایت و راہنمائی مت مانگو ورنہ گمراہ ہوجاؤگے۔ 
سوال: پھر ہم پر اہل بیت(ع) کی پیروی کیوں واجب ہے؟ جواب: وہ بھی قرآن ہی کا حکم ہے اور باعث ہدایت۔ 

30۔ اللہ رحم کرے اس پر جو ہمارے امر کو زندہ رکھے 
قال عبدالسلام بن صالح الهروی: سمعت الرضا (ع) یقول: رحم الله عبدا احییٰ امرنا. قلت : وكیف یحیی امركم ؟ قال: یَتَعَلَّمُ علومَنا وَیُعَلِّمُها الناسَ۔ 
وسائل الشیعة ، ج 18، ص (102)۔ 
عبدالسلام الہروی کہتے ہیں: میں نے امام رضا(ع) کو فرماتے ہوئے سنا: خدا رحم کرے اس بندے پر جو ہمار امر (اور ہمارے مشن) کو زندہ رکھے۔ میں نے عرض کیا: وہ ایسا کیونکر کرسکتا ہے؟ فرمایا: ہمارے علوم کو سیکھ لے اور لوگوں کو سکھائے۔ 

31۔ خود احتسابی، عالم کون ہے؟ 
من حاسب نفسه ربح ، ومن غفل عنها خسر، ومن خاف أمن، ومن اعتبر أبصر، ومن أبصر فهم ، ومن فهم علم۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (352)۔ 
جو اپنے آپ کا احتساب کرے منافع اٹھائے گا، جو اپنے آپ سے غافل ہوجائے نقصان اٹھائے گا، جو اپنے مستقبل سے فکرمند ہوگا اور خوفزدہ ہوگا، محفوظ رہے گا اور جو دنیا کے حوادث اور واقعات سے عبرت لے، صاحب بصیرت بنے گا اور جو صاحب بصیرت ہوگا وہ مسائل کو سمجھ لےگا اور جو مسائل کو سممجھ لے وہ عالم ہے۔ 

32۔ عُجب کے کئی درجات ہیں 
العجب درجات: منها ان یزین للعبد سوء عمله فیراه حسنا فیعجبه ویحسب انه یحسن صنعا، ومنها أن یؤمن العبد بربه فیمن علی الله ولله المنة علیه فیه۔ 
تحف العقول ، ص (468)۔ 
عُجب کے کئی درجات ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ بندے کا برا عمل اس کو خوبصورت نظر آئے اور سمجھے کہ اس نے اچھا کام کیا ہے، ایک یہ ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے والا بندہ خدا پر احسان جتائے حالانکہ خدا نے اس سلسلے میں اس پر احسان کیا ہے۔ 

33۔ تین چیزوں کا تعلق تین چیزوں سے 
إن الله عزوجل أمر بثلاثة مقرون بها ثلاثة اخری: امر بالصلاة و الزكاة، فمن صلیٰ ولم یزك لم یقبل منه صلاته ، وامر بالشكر له وللوالدین، فمن لم یشكر والدیه لم یشكر الله، وامر باتقاء الله و صلة الرحم، فمن لم یصل رحمه لم یتق الله عزوجل۔ 
عیون اخبار الرضا ، ج 1 ، ص (258)۔ 
خداوند متعال نے تین چیزوں کو تین چیزوں سے مربوط کردیا ہے (اور ایک دوسری کے بغیر ناقابل قبول ہے): نماز کو زکوٰۃ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے پس جو نماز ادا کرے اور زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز قبول نہ ہوگی، نیز اس نے اپنے شکر کو والدین کے شکر کے ساتھ ذکر کیا ہے پس جو خدا کا شکر کرے اور والدین کا قدر دان نہ ہو اس نے خدا کا شکر ادا نہیں کیا ہے۔ اور خدا نے تقوائے الہی اور اعزاء و اقارب کے ساتھ پیوند استوار رکھنے کا حکم دیا ہے پس جو اپنوں کے ساتھ نیکی و احسان نہ کرے وہ متقی اور پرہیزگار شمار نہ ہوگا۔ 

34۔ حرص و حسد سے پرہیز کرو بخل ایمان کے خلاف ہے 
ایاكم والحرص و الحسد، فإنها أهلكا الامم السالفة، وایاكم والبخل فإنها عاهة لا تكون فی حر ولا مؤمن، إنها خلاف الإیمان۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (346)
حرص و حسد سے پرہیز کرو کیونکہ ان دو نے سابقہ امتوں کو نیست و نابود کیا اور بخل و کنجوسی سے پرہیز کرو کیونکہ کوئی بھی مؤمن اور آزاد انسان بخل کی آفت میں مبتلا نہيں ہوتا۔ بخل ایمان سے متصادم ہے۔ 

35۔ صدقہ دیا کرو 
تصدق بالشیء وإن قل، فان كل شیء یراد به الله، وإن قل بعد ان تصدق النیة فیه عظیم۔ 
وسائل الشیعة ، ج 1 ، ص (87)۔ 
صدقہ دیا کرو خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ہر چھوٹا کا جو خدا کی خاطر انجام دیا جائے، عظیم ہے۔ 

36۔ تائب بےگناہ ہے 
التائب من الذنب كمن لا ذنب له۔ 
بحار الانوار ، ج 6 ، ص (21)
توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا۔ 

37۔ بہترین عقل وتفکر 
افضل العقل معرفة الانسان نفسه۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (352)
بہترین تعقل و تفکر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچان لے (اور معرفت نفس حاصل کرے)۔ 

38۔ خدا پر حسن ظن رکھو 
أحسن الظن بالله، فإن الله عزوجل یقول: أنا عند ظن عبدی المؤمن بی، إن خیراً فخیراً وإن شراً فشراً۔ 
اصول کافی ، ج 3 ، ص (116). 
اللہ پر حسن ظن رکھو اور خوش گمان رہو کیونکہ خداوند عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے مؤمن بندے کے حسن ظن کے ساتھ ہوں، اگر اس کا گمان اچھا ہے تو میرا سلوک بھی نیک ہوگا اور اگر اس کا خیال میرے بارے میں برا ہے تو میرا سلوک بھی اس کے اچھا نہ ہوگا۔ 

39۔ صلہ رحمی طول عمر کا سبب 
یكون الرجل یصل رحمه، فیكون قد بقی من عمره ثلاث سنین فیصیرها الله ثلاثین سنة ویفعل الله ما یشاء۔ 
اصول کافی ، ج 3 ، ص (221)
کبھی، ایک شخص صلہ رحمی کرتا ہے (اور اپنوں سے پیوند برقرار کرتا ہے) جبکہ اس کی عمر میں سے صرف تین سال باقی رہ گئے ہیں پس خداوند متعال اس کی عمر 30 سال تک بڑھا دیتا ہے، اور خدا جو چاہے انجام دیتا ہے۔ 

40۔ لوگوں کی حاجت برآری کی اہمیت 
احرصوا على قضاء حوائج المؤمنين وإدخال السرور علیهم ودفع المكروه عنهم، فإنه لیس شیءٌ من الاعمال عندالله عزوجل بعد الفرائض افضل من إدخال السرور علی المؤمن۔ 
بحار الانوار ، ج 78، ص (347)۔ 
مؤمنین کی ضروریات پوری کرنے اور ان کو خوشنود کرنے اور مشکلات کو ان سے دور کرنے کی کوشش کرو کیونکہ فرائض کی انجام دہی کے بعد خدا کے نزدیک کوئی بھی عمل مؤمن کو خوشنود کرنے سے افضل نہیں ہے۔ 

شهیدرضا اسماعیلی



شهیدرضا اسماعیلی ، بی بی زینب سلام اللہ کے حرم مبارک کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا ہے ۔ خدا ان کی شہادت قبول فرمائے۔ وہابیوں اور تکفری لعینوں نے ان کے سر کو بدن سے جدا کرکے اپنے اباواجداد یعنی یزید ملعون اور شمر ملعون کے کردار پر عمل کرکے اپنے حرامی ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ 

امام زمانہ (عج) کے ساتھیوں کے اوصاف

امام صادق علیہ السّلام نے فرمایا


ایسے مرد ہیں جن کے دل لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہیں، ذات اللہ میں کسی شک و تردد کا شکار نہیں ہوتے، ان کے دل پتھر کی مانند مضبوط ہونگے اوراگر وہ پہاڑوں پر حملہ آور ہوجائیں تو انہیں اکھاڑ کر ختم کردیں گے؛ اپنے پرچم لے کر کسی شہر کا قصد کریں تو اس کو نیست و نابود کرکے ہی دم لیتے ہیں؛ گویا اپنے گھوڑوں پر سوار عقاب ہیں اور تبرک کی نیت سے امام (ع) کے گھوڑے کی زين کو ہاتھوں سے مسح کرتے ہیں؛ اور جنگوں میں امام (عج) کے گرد پروانہ وار گھومتے ہیں اور امام (عج) کے فرامین کی تعمیل کرتے ہیں؛ ایسے مرد ہیں جو راتوں کو سویا نہیں کرتے بلکہ نماز پڑھتے ہیں اور ان کی نماز کی صدا شہد کی مکھیوں کی بنبناہٹ سے مشابہت رکھتی ہے جو چھتے سے سنائی دیتی ہے؛ اور وہ اپنی سواریوں پر سوار ہوکر صبح کرتے ہیں؛ راتوں کو راہب بنتے اور دنوں کو شیر ہوتے ہیں وہ اپنے امام کے لئے، مالک کے کے لئے کنیز سے بھی زیادہ، اطاعت گذار ہیں؛ چراغوں کی مانند ہیں اور گویا ان کے دل قندیل ہیں جبکہ وہ اللہ کے خوف سے فکرمند رہتے ہيں؛ شہادت کی دعا کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں قتل ہونا ان کی آرزو ہے؛ ان کا نعرہ اور شعار "یا لثارات الحسین (ع)" اے حسین کے خونخواہو!) ہے؛ جب روانہ ہوجاتے ہيں تو ان کا رعب اور ان کے آنے کا خوف ان کے پہنچنے سے قبل ـ ایک مہینے کی مسافت، کے برابر ـ دشمن پر طاری ہوتا ہے۔

Ref: (بحار، ج52، ص308).
:چنانچہ یہ ہیں امام زمانہ (عج) کے ساتھیوں کے اوصاف

1ـ قلب محكم کے مالک ہونگے، ان کے قلوب لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہونگے۔

2ـ وسوسوں سے دوری، ذات خدا میں کسی طور بھی شک نہیں کریں گے۔

3۔ دشمن کے جس علاقے کا رخ کریں گے اسے فتح کرکے دم لیں گے۔

4ـ برکت کے خواہاں ہونگے؛ عقابوں کی مانند اپنے گھوڑوں پر سوار ہوکر امام علیہ السلام کی زین پر ہاتھ پھر کر برکت جوئی کریں گے۔

5ـ جان نثار ہونگے؛ امام علیہ السلام کی شمع کے گرد پروانہ وار گھومیں گے اور اور اپنی جانوں سےآپ (ع) کی حفاظت کریں گے۔

6ـ شب زندہ دار اور اہل مناجات ہیں؛ راتوں کو نہیں سوتے اور ان کے تہجد کی صدائیں ان شہد کی مکھیوں کی آواز جیسی سنائی دے گی جو چھتے سے سنائی دیتی ہے۔

7ـ اطاعت محض اور صرف اور صرف فرمانبراری؛ وہ اپنے امام (ع) کے فرمان کے سامنے مالک کے فرمان کے سامنے کنیزکی اطاعت سے بھی زیادہ اطاعت گذار ہونگے۔

9۔ راتوں کے زاہد؛ راتوں کے زاہد و راہب اور دنوں کے شیر ہونگے۔

8ـ ان کے دل روشن ہونگے؛ چراغوں جیسے ہونگے اور ان کے دل یوں روشن ہونگے گویا کہ ان کے قلوب قندیل و مشعل کی مانند روشن ہونگے۔

10ـ خوف خدا کے حامل ہونگے؛ وہ اللہ کے خوف سے فکرمند ہونگے۔

11ـ شہادت طلبی ان کا شیوہ؛ ان کی آرزو اللہ کی راہ میں قتل ہونا ہے۔

12ـ حق کی نصرت کرنے والے ہونگے؛ اور اللہ تعالی ان کے ذریعے امام حق (عج) کو نصرت عطا فرمائے گا۔

(Syeda Sisters): Nohay in German Language




TRACKS FILE SIZE DOWNLOADS
01- Oh geliebter Enkel von Rasulillah 8.08 MB DOWNLOADS
02-  Oh Zainab 7.75 MB  DOWNLOADS
03-  Auf dem Sande Kerbalas 5.82 MB  DOWNLOADS
04- Wieso kommst Du nicht zurück 5.19 MB  DOWNLOADS
05- Ya Abaabdillah ya sayyed du schohada 6.20 MB  DOWNLOADS
06- Wo seid ihr meine Treuen 5.05 MB DOWNLOADS
07- Es ist unmöglich deine Liebe 5.34 MB  DOWNLOADS
 08- Wawaila Farsi 6.86 MB  DOWNLOADS
09- Ya Rab hörst Du mich 5.54 MB  DOWNLOADS

نامحرم سے ہاتھ ملانا آیت اللہ سیستانی کی نظر میں

 

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ العظمیٰ آقائے سیستانی نے نامحرم سے مصافحہ کرنے کے سلسلے میں مقلدین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں یوں بیان کیا ہے:

آپ سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات
س: کیا مجبوری کی حالت میں غیر مسلمان عورت سے مصافحہ کرنا بغیر لذت کے جائز ہے؟
ج: ہاتھ میں کپڑا رکھ کر یا دستانے لگا کر مصافحہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س: کیا گیلے ہاتھ سے کافر یا اہل کتاب کے ساتھ مصافحہ کرنا درست ہے؟
ج: گیلے ہاتھ سے کافر کے ساتھ مصافحہ کرنے سے ہاتھ نجس ہو جائے گا لیکن اہل کتاب سے نہیں اور نماز کے لیے ہاتھ دھونا ہو گا۔
س: اگر نامحرم کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دینے سے ناراضگی اور فیملی سے قطع تعلق جیسے مسائل پیدا ہوتے ہوں یا والدین کا ہاتھ ملانے پر اصرار ہو تو کیا حکم ہے؟
ج: نامحرم سے ہاتھ ملانا جائز نہیں ہے صرف دستانے پہن کر ہاتھ ملانا جائز ہے۔
س: میری بیٹی ڈاکٹر ہے اور نامحرموں کے ساتھ ہاتھ لگانے پر مجبور ہے اس سلسلے میں کیا حکم ہے؟
ج: ضرورت کے علاوہ نامحرم کو مس کرنا جائز نہیں ہے۔
س: کیا کافر عورتوں سے ہاتھ ملانا حرام ہے۔
ج: بالکل حرام ہے۔
س: مغربی ممالک میں ہاتھ ملانا سلام کرنے کے عنوان سے رائج ہے اور کبھی کبھی کسی سے ہاتھ نہ ملانا اسکول، کارخانے یا کسی دوسرے ادارے سے نکال دیے جانے کا باعث بنتا ہے کیا ایک مسلمان مرد و عورت ایسے حالات میں استثنائی طور پر نامحرم سے ہاتھ ملا سکتے ہیں؟
ج: اگر دستانے پہن کر یا اس طرح کی کوئی چیز ہاتھ پر لگا کر اس مشکل سے نجات پانا ممکن نہ ہو تو ایسے مقام پر جہاں ہاتھ نہ ملانا کسی معقول نقصان کا باعث بنے، مسلمان مرد یا عورت کا نامحرم کے ساتھ ہاتھ ملانا جائز ہے۔

کراچی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے مولانا محمد اکبر حسین شہید ہوگئے

کراچی۔۔۔ سر اور سینے میں گولیاں لگنے سے مولانا محمد اکبر حسین موقع پر ہی دم توڑ گئے، شہید کی میت کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر پولیس کی رسمی کارروائی کے بعد انکے جسد خاکی کو ملیر جعفر طیار منتقل کردیا گیا ہے۔


کراچی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے مولانا محمد اکبر حسین شہید ہوگئے
ابنا: کراچی کے علاقے نارتھ کراچی بلال کالونی کے قریب امریکہ نواز دہشتگردوں کی فائرنگ سے شیعہ عالم دین مولانا محمد اکبر حسین شہید ہوگئے۔ 
اطلاعات کے مطابق مولانا محمد اکبر حسین کو دہشت گردوں نے اس وقت گولیاں ماریں، جب وہ اپنے گھر سے بچوں کو اسکول چھوڑنے گئے تھے کہ گھات لگائے موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کر دی اور فرار ہوگئے۔ سر اور سینے میں گولیاں لگنے سے مولانا محمد اکبر حسین موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ شہید کی میت کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر پولیس کی رسمی کارروائی کے بعد ان کے جسد خاکی کو ملیر جعفر طیار منتقل کر دیا گیا ہے۔
.......

BIOGRAPHY ABOUT IMAM ZAIN-UL-ABIDEEN

Name: Ali ibn Al-Husayn (a.s.)
Mother: Ghazala, Shahzanaan 
Kunniyat (Patronymic): Abu al-Hasan 
Laqab (Title): Zayn al-'Abidin, Al Sajjad 
Birth: He was born in 38 A.H. in Madina.

He died of poison in the year 94 or 95 A.H. at Madina and is buried at Baqi near his uncle Hasan (a.s.).

His Birth and blessings

The 4th Imam after Imam Hussain(a.s.) was his son Imam Ali Zain-al-Abideen(a.s.). His mother was Bibi Shahar Bano who was a princess from Persia, the daughter of the Kind Yazd Gard II. She was brought as a prisoner of war during the caliphate period of mam Ali(a.s.) during 31 A.H. and Imam Ali(a.s.) got her freed and married her to Imam Hussain(a.s.). Imam Zain-al-Abideen was born from this wedlock. She, however, died within 10 days of the birth of Imam Sajjad(a.s.).
His title Zain-al-Abideen was granted to him by the Holy Prophet(pbuh&hf) himself who mentioned that on the day of judgement a call for Zain-al-Abideen will be made and my son Ali bin al-Hussain(a.s.) will responde to the call saying "Labbaik". His other Title, Syed-us-Sajideen, was given because of his devotion to prayers. He would pray for long durations specially during the nights and would pray a lot of prayers of gratitude - Namaz-e-Shukrana.
Imam Sajjad(a.s.) spent the first 2 years of his life under the care of his grandfater Imam Ali(a.s.) and after his death in 50 A.H., he was brought up under the care of the 2nd Imam Hasan(a.s.). Imam Sajjad(a.s.) was married to the Bibi Fatima(a.s.) - daughter of Imam Hasan(a.s.). Imam Hasan(a.s.) was martyred in 50 A.H. and the Imamate of Imam Hussain(a.s.) started which terminated on 10th Moharram 61 A.H. from where the Imamate of Imam Sajjad(a.s.) began.

Period of Imamate and events of Karbala

Imam Sajjad(a.s.) was about 22 or 23 years old when the sad event of Karbala occured. Since Allah(swt) mentions in his holy Book that this world cannot survive for a moment if there is no Masoom "Imam" present at all times, Allah(swt) arranged it such that Imam Sajjad(a.s.) became severly ill during that battle and could not participate as a warrior. He asked the permission to fight in the battle but Imam Hussain(a.s.) told him that he had been assigned a different type of "Jihad" that was to start after the martyrdom of Imam Hussain(a.s.) - namely leading the women and children of the household of Prophet Mohammad(pbuh&hf) into the bazars and courts of Kufa and Damascus. Imam Sajjad(a.s.) was made a prisoner of war together with the whole family of the Prophet Mohammad(pbuh&hf). It was at this time that he was given the responsibility of Imamate and his was one of the most difficult times when any Imam was given this responsibility. Truly speaking, for him, it would have been very easy to die on the battle field as a martyr than to be taken as prisoner of war and see all the insult and humiliations thrown on him and on the womenfolk of the house of the Prophet. However, he did what Allah wished him to do
After the martyrdom of Imam Hussain(a.s.), the survival of Islam depended on Imam Zainul Abideen(a.s.), and that also at a tender age of 22. He had a very hard job of letting the world know the mission of Imam Hussain(a.s.) and exposing the evil intentions of Yazid and the Bani Umayyah. He had to keep the message of Islam alive and save it from being confused by the evil Bani Umayyah.
The army of Yazid treated him very badly by putting him in heavy chains. As a prisoner of war, he was made to travel on the open back of a camel in burning sunshine from Kerbala to Kufa and then from Kufa to Shaam (Damascus) - a distance of about 750 kilometres. Sometimes, he would be made to walk on the burning sands of the desert. This was not all. Women and children of the family of the Prophet Muhammad(pbuh&hf), too, were hand-cuffed and treated like they were slaves. The daughters of Imam Ali(a.s.) and Bibi Fatima(s.a.) were treated worse than criminals, their Hijabs were taken away from them. A caller accompanied them introducing them to the passersbys as "Those who had disobeyed the Muslim ruler, Yazid". They were then presented as prisoners, first to Ibn-e-Ziyad in Kufa and then to Yazid in Damascus.
In the courts of Ibn-e-Ziyad and Yazid, Imam Sajjad(a.s.) gave lion-hearted lectures and presented the true Islam to the listeners and introduced himself and his accompanying members as the descendents of the Prophet Mohammad(pbuh&hf) and the leaders appointed by Allah(swt). His lectures had such an impact on the listeners that despite several attempts to kill him inside the court of both Yazid and Ibn-e-Ziyad could not materialize. Bibi Zainab(s.a.) and other women of the household of Prophet Mohammad(pbuh&hf) became the frontline protectors and were backed by the people in the court of Yazid who had still left some shame in them.
To quote one incidence, Yazid asked one of his employed preachersto go on the 'Mimber' (pulpit) of the Mosque and abused Imam Ali(a.s.) and his family. When the preacher finished his lecture, Imam Sajjad(a.s.) turned to him and said, "Be ashamed of yourself, you evil speaker. With your words you have displeased Allah so as to please people". Then the Imam(a.s.) asked Yazid to let him talk to the people. Yazid refused to do so. The people of Syria, however, forced Yazid to allow the Imam to go on the Mimber.
Once on the Mimber, Imam Zain al-Abideen(a.s.) first praised Allah(swt) and His Messenger(pbuh&hf). After that the Imam gave along and very powerful speech letting the Syrians know the great position of Imam Husain(a.s.) to Allah(swt), and how evil Yazid and his family were. Part of the speech is summarised below:
"O listeners Allah has given us (Ahle Bart) six things which no one else has. He has given us special Wisdom, Patience, Dignity, Power of speech, Courage and Respect. He gave us special benefit of belonging to the family of his Prophet. To us belong Hamza and Jafar. To us belong Asadullah (The lion of Allah, Imam Ali(a.s.)). To us belong the leader of the youths of paradise (Imam Hassan(a.s.) and Imam Hussain(a.s.)).
"Those who know me, know me. Those who do not, then know that I am the son of Mecca and Mina. I am the son of Zamzam and Safa. I am the son of he who gave Zakat to the poor. I am the son of the best of those who have ever put on Ihram and performed ceremonies of Hajj. I am the son of he who was taken on the night journey from house of Allah to the Mosque of Aqsa and then to Miraj. I am the son of he who was taken around by Gibrael to the Lote-tree of the boundary (Sidratul Muntaha).
"I am the son of Muhammad Mustafa(pbuh&hf). I am the son of Ali Al-Murtaza(a.s.) who fought the polytheists in the battle till they submitted to Islam and fought in the presence of the Prophet until his sword was broken and to whom Zulfikar was given. I am the son of he who had the honour to migrate twice in Islam. I am the son of Fatima the best women of the world...".
The effect of the speech was so powerful that everybody in the Mosque began to weep and to blame Yazid. Yazid was afraid that if the Imam continued his speech, there would be a revolution and revolt. At the same time Yazid could not stop the Imam and get him down from the Mimber. He therefore ordered a "Muazzin" to give Azan, knowing that this would automatically cut the Imam's speech. But he underestimated the Imam's bravery and intelligence. The Imam stopped his speech but did not get down from the Mimber. When the Muazzin said " Allahu Akber" the Imam testified Allah's greatness. When the Muazzin said, "Ash hadu anna Muhammaddan Rasulullah", the Imam stopped the Muazzin from going any further. He then turned to Yezid and asked him. "Tell me o Yazid, was Muhammad(pbuh&hf) your grandfather or mine? If you say he was your grandfather it will be an open lie and if you say he was my grandfather then why have you killed his son and imprisoned his family? Why have you killed my father and brought his women and children to this city as prisoners?"
Yazid had no reply to give.
The effect of this was to turn Syrians against Yazid. Everyone of them now found out about Yazid's crimes that he had committed against the Prophet (pbuh&hf) and his family. They began to blame him and ask for the release of Imam Zain al-Abidin(a.s.) and the womenfolk of the house of the Prophet. Yazid was now afraid that if he did not act fast his rulership would be lost. He therefore freed Imam Zain al-Abidin(a.s.) and let. him return to Medina with full honour and respect.

His Life in Madina

Yazid had to free the Imam(a.s.) out of fear of his own rulership, therefore, Imam(a.s.) was still not completely safe from his evil designs even upon reaching back to Madina. Once in Madina, Imam(a.s.) gathered the people and told them the horrifying stories of Karbala and informed them that his father Imam Hussain(a.s.) and his companions were martyred and his family members were made prisoners and were taken from one city to another and branded as traitors.
Imam Sajjad(a.s.) started regular mourning session right from the day he arrived in Madina and apprised the people of the hard times that the family of the Prophet(pbuh&hf) had to to through. Day in and day out, people used to go to Imam(a.s.) and present condolence and hear the events of Karbala. Once a visitor named Noman came to Imam(a.s.) and asked him which was the most difficult time he had to face and the Imam(a.s.) cried for a long time and three times said "AS-SHAAM AS-SHAAM AS-SHAAM". Another visitor asked him as to how long would he continue mourning and crying and he replied that Prophet Ayub(a.s.) had 12 sons and only one of them got lost and he know that he was still alive but he continued crying until his eyes became white and his back got bent - I had seen 17 members of my family being slaughtered around me like sheep and you ask me as to how long I would continue mourning.
Another task that Imam Sajjad(a.s.) did after coming back from Syria was that he started praying and saying supplications with full devotion. His devotion was so strong and felt by his companions and visitors that they started collection his supplications which still exist by the name of SAHIFA-E-KAMILA. It is also know as SAHIFA-E-SAJJADIA. It consists of 54 Duas, 14 additional duas and 15 Munajaat. In addition to the SAHIFA there are several other supplications of the Imam(a.s.) which appear under different cover names.

His martyrdom

Imam(a.s.) kept his life very personal and preferred to stay in a town close to Madina from where he would preach the true religion of Allah(swt) quietly and with character. His character and preaching inspired a large number of people specially in the vicinity of Madina and Makkah. Slowly the tyrrant rulers of his time began to realize the dangers that they faced from the Imam(a.s.)'s preaching and character. His period of Imamte was full of tyrant rulers such as Yazid untill 64 A.H., Moawiya bin Yazid and Marwan bin-al-Hakam until 65 A.H, then from 68 A.H. until 86 A.H. was the rulership of Abdul Malik bin Marwan and finally from 86 A.H. until 96 A.H. was the period of Walid bin Abdul Malik. Amid this growing threat, Walid decided to poison and kill the Imam and finally he succeeded in his ulterior motives and Imam Sajjad(a.s.) was poisoned by the governor of Madina and martyred on 25th Moharram 95 A.H. (713 A.D.)

نوجوان لبنانی لڑکی جس کو اپنی شہادت کی خبر تھی + تصاویر

ویسے تو بیروت کے جنوب میں منگل کے روز تکفیری دہشت گردوں کے کار بم دھماکے میں شہید ہونے والے تمام افراد کی داستان ہمارے لئے غم انگیز ہے لیکن ماریا الجوہری کی داستان مختلف ہے۔ اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ "تکفیری دہشت گردوں کے چوتھے حملے میں شہید ہوجاؤں گی"۔ 


نوجوان لبنانی لڑکی جس کو اپنی شہادت کی خبر تھی + تصاویر
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایشیا نیوز ویب سائٹ نے لکھا: ماریا الجوہری نے شارع العریض میں تکفیری دہشت گردوں کے تیسرے دہشت گردانہ حملے کے بعد فیس بک ٹائم لائن پر لکھا: یہ دہشت گردوں کا تیسرا دھماکہ ہے جس سے میں بال بال بچ گئی ہوں، میں کچھ نہیں جانتی شاید چوتھے حملے میں شہید ہوجاؤں، کافی غم محسوس کررہی ہوں۔
اس نوجوان لبنانی لڑکی کی والدہ نے ان کی تصویریں شائع کرتے ہوئے ماریا سے مخاطب ہوکر کہا: میں تو تیری شادی دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ ماریا تو شہید ہوگئی۔ 
منگل (20 جنوری 2014) کو لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوب میں "حارہ حریک" کے علاقے میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں چار لبنانی شہید اور 46 افراد زخمی ہوئے۔ شہداء میں نوجوان لڑکی ماریا الجوہری بھی شامل تھی۔ 
اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ سے وابستہ تکفیری ـ وہابی دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ نے قبول کی ہے۔







5
تیسرے دھماکے کے بعد ماریا الجوہری کا فیس بک پیغام


اگر سعودی کربلا کے قریب آنے کی کوشش کریں تو ہم نماز ظہر جنت البقیع میں ادا 

.کریں گے

دہشت گردی کے خلاف عراقی عوام اور حکومت کی جنگ کے دوران آل سعود کی دھمکیوں کے جواب میں عراقی اسپیشل فورسز کے کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل فاضل البرواری" کے دھمکی آمیز موقف کو عالمی سطح پر کوریج دی گئی۔ انھوں نے کہا: اگر آل سعود نے کربلا کے قریب آنے کی کوشش کی تو ہم نماز ظہر مدینہ پہنچ کر جنت البقیع میں ادا کریں گے۔ 

اگر سعودی کربلا کے قریب آنے کی کوشش کریں تو ہم نماز ظہر جنت البقیع میں ادا کریں گے
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل فاضل البرواری نے ایک سماجی نیٹ ورک میں اپنی ٹائم لائن پر لکھا: اگر سعودی حکام کربلا میں ہمارے مقدس مقامات پر حملہ کرنا چاہیں، یا حتی عراقی سرزمین کے ایک انچ حصے پر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچے، ہم نماز ظہر مدینہ منورہ اور جنت البقیع میں ادا کریں گے۔ 
البرواری نے صوبہ الانبار میں دہشت گردوں کے ہاتھوں چاری عراقی سپاہیوں کے قتل پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دھمکی دی اور کہا: ہم ان چار سپاہیوں کے بدلے میں تکفیری تنظیم داعش کے چار ہزار دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتاریں گے۔ 
دریں اثناء عراقی فورسز نے "البوفراج" نامی قبیلے کے شیخ کو ـ ان سپاہیوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں ـ گرفتار کرلیا ہے۔ 
ادھر مقتول عراقی سپاہیوں کے اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے عزیزوں کا خون پامال نہ ہونے دے، البوفراج قبیلے کے زعیم کو رہا نہ کرے اور اس کو قانون کے دائرے میں، قرار واقع سزا دیتے ہوئے شہدا کے خون کا انتقال لے۔ 
فاضل البرواری نے کچھ عرصہ قبل بھی اپنی ٹائم لائن پر لکھا تھا: عرب ممالک سے 4000 ہزار دہشت گردوں نے عراق پہنچ کر خودکش کاروائیاں کیں جن میں زيادہ تر دہشت گردوں کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔
عراقی اسپیشل آپریشنز کےکمانڈر بریگیڈیئر جنرل فاضل البرواری

حال ہی میں ناقابل انکار دستاویزات شائع ہوئی ہیں جو الانبار اور الفلوجہ کے واقعے میں آل سعود کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کررہی ہیں اور القاعدہ کے بعض گرفتار سرغنوں نے اعتراف کیا ہے کہ الانبار میں فوجی کاروائی آغاز ہونے سے ایک روز قبل آل سعود نے ستر لاکھ ڈالر اس صوبے میں موجود دہشت گردوں کے سپرد کئے تھے اور ہدایت کی تھی کہ فوری طور پر اس علاقے میں "اسلامی امارت" کے قیام کا اعلان کریں اور سعودی عرب فوری طور پر اس حکومت کو تسلیم کرے گی۔ 
جنرل فاضل البرواری عراقی کرد ہیں جو کرد مزاحمت کے دوران اپنے خاندان کے کئی افراد کی صدام کے ہاتھوں شہید ہونے کے بعد خود بھی مزاحمت فورسز میں شامل ہوئے اور 2003 میں امریکی جارحیت کے بعد انھوں نے اپنے علاقوں کے تحفظ کے لئے ایک لشکر تشکیل دیا اور پھر دہشت گردی کے خلاف عراقی قوم کی جدوجہد میں شامل ہوئے اور آج 20 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد عراق کی اسپیشل آپریشنز فورسزے کے کمانڈر کی حیثیت سے فرائض نبھا رہے ہیں۔