ALI SAFDAR MUNQABAT 2014

COMPLETE ALBUM HAS BEEN AVAILABLE NOW


ALI SAFDAR MUNQABAT 2014


Ali Imame Manastu Manam


Imam E Raza (A.S)


Karbala Naseeb Sey Jana



Ya Imam e Zamana (A.S)



Ali (a.s) Ke Chahane Waale Khushi Aisay



Jafer e Tayyar Do



Naam e Ali Ki Chahi Dhoop



Quran



Shadi Mubarak Ho Ye Shadi





حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جاوداں شخصیت کے تاریخی پہلو

تاریخ کربلا اور تحریک زینب (ع) میں ایک نیا باب کھلتا ہے زینب اس قافلے کی قافلہ سالار اور بزرگ ہیں کہ جسکے قافلہ سالار امام حسین علیہ السلام تھے جس کے حامی عباس ،(ع)علی اکبر (ع) ۔۔۔ بنی ھاشم اور امام حسین (ع) کے باوفا اصحاب تھے ، وہ غیور مرد جن پر اہل بیت (ع) حرم اور بچوں کو ناز تھا جن کے وجود سے اہل بیت (ع) کو سکون تھا ۔




دين اسلام کي پاکيزہ تعليمات کی تحفظ وپاسداري

جناب زینب نے اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں اسلامی معاشرہ میں رونما ہونے والے طرح طرح کے تغیرات بہت قریب سے دیکھے تھے خاص طور پر دیکھ کر کہ امویوں نے کس طرح دور جاہلیت کی قومی عصبیت اور نسلی افتخارات کو رواج دے رکھاہے اور علی الاعلان اسلامی احکامات کو پامال کررہے ہیں، علی و فاطمہ کی بیٹی اپنے بھائی حسین کے ساتھ اسلامی اصولوں کی برتری کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوگئی ظاہر ہے جناب زینب، بھائی کی محبت سے قطع نظر اسلامی اقدار کی حفاظت اور اموی انحراف سے اسلام کی نجات کے لئے امام حسین علیہ السلام سے ساتھ ہوئی تھیں کیونکہ آپ کاپورا وجود عشق حق اور عشق اسلام سے سرشار تھا ۔



علم و تقويٰ

کائنات کي سب سے محکم و مقدس شخصيتوں کے درميان پرورش پانے والي خاتون کتني محکم و مقدس ھوگي اس کا علم و تقويٰ کتنا بلندو بالا ھوگا۔ جب آپ مدينہ سے کوفہ تشريف لائيں تو کوفہ کي عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں سے کہا کہ تم علي سے درخواست کرو کہ آپ مردوں کي تعليم و تربيت کے لئے کافي ہیں ، ليکن ہماري عو رتوں نے يہ خواہش ظاہر کي ہے کہ اگر ہو سکے تو آپ اپني بيٹي زينب سے کہہ ديں کہ ہم لوگ جاہل نہ رہ سکيں ۔
ايک روز کوفہ کي اہل ايمان خواتين رسول زادي کي خدمت ميں جمع ہو گئيں ۔اور ان سے درخواست کي کہ انھيں معارفت اللہ سے مستفيض فرمائيں ۔ زينب نے مستورات کوفہ کے لئے درس تفسير قرآن شروع کيا اور چند دنوں ميں ہی خواتين کي کثير تعداد علوم اللہ سے فيضياب ہونے لگي ۔ آپ روز بہ روز قرآن مجيد کي تفسير بيان کر تي تھيں ۔ 
تاریخ آپ کو " ثانی زہرا" اور " عقیلۂ بنی ہاشم " جیسے ناموں سے بھی یاد کرتی ھے ۔
کوفہ ميں آپ کے علم کا چرچہ روز بروز ہر مردو زن کي زبان پر تھااور ہر گھر ميں آپ کے علم کي تعريفيں ہو رھی تھيں اور لوگ علي(ع) کي خدمت ميں حاضر ہو کر آپ کي بيٹي کے علم کي تعريفيں کيا کرتے تھے يہ اس کي بيٹي کي تعريفيں ہو رھی ھیں جس کا باپ "راسخون في العلم " جس کا باپ باب شہر علم ھے جس کا باپ استاد ملائکہ ھے ۔ 



جذبہ جہاد اور سرفروشی

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے واقعہ کربلا میں اپنی بے مثال شرکت کے ذریعے تاریخ بشریت میں حق کی سربلندی کے لڑے جانے والی سب سے عظیم جنگ اور جہاد و سرفروشی کے سب سے بڑے معرکہ کربلا کے انقلاب کو رہتی دنیا کے لئےجاوداں بنادیا ۔ جناب زینب سلام اللہ کی قربانی کا بڑا حصہ میدان کربلا میں نواسۂ رسول امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اسیری اور کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں تشہیر سے تعلق رکھتاہے 



فصاحت و بلاغت اور نظم و تدبیر

اس دوران جناب زینب کبری کی شخصیت کے کچھ اہم اور ممتاز پہلو، حسین ترین شکل میں جلوہ گر ہوئے ہیں ۔ خدا کے فیصلے پر ہر طرح راضی و خوشنود رہنا اور اسلامی احکام کے سامنے سخت ترین حالات میں سر تسلیم و رضا خم رکھنا علی کی بیٹی کا سب سے بڑا امتیازہے صبر، شجاعت، فصاحت و بلاغت اور نظم و تدبیر کے اوصاف سے صحیح اور پر وقار انداز میں استفادہ نے آپ کو عظیم انسانی ذمہ داریوں کی ادائگی میں بھرپور کامیابی عطا کی ہے ۔



سالارٍ حقانیت

جناب زینب نے اپنے وقت کے ظالم و سفاک ترین افراد کے سامنے پوری دلیری کے ساتھ اسیری کی پروا کئے بغیر مظلوموں کے حقوق کا دفاع کیاہے اور اسلام و قرآن کی حقانیت کا پرچم بلند کیا۔ جن لوگوں نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک ویران و غیر آباد صحرا میں قتل کرکے، حقائق کو پلٹنے اور اپنے حق میں الٹا کر کے پیش کرنے کی جرات کی تھی سردربار ان بہیمانہ جرائم کو برملا کرکے کوفہ و شام کے بے حس عوام کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت و بے شرمی کے پردے چاک کئے ہیں ۔



انقلابی تدبر

باوجود اس کے کہ بظاہر تمام حالات بنی امیہ اور ان کے حکمراں یزید فاسق و فاجر کے حق میں تھے جناب زینب نے اپنے خطبوں کے ذریعے اموی حکام کی ظالمانہ ماہیت برملا کر کے ابتدائی مراحل میں ہی نواسۂ رسول کے قاتلوں کی مہم کو ناکام و نامراد کردیا۔

بے مثال عالمہ اور صبرو استقامت کا کوہ گراں

امام زين العابدين عليہ السلام فرماتے ہيں کہ بحمد اللہ ميري پھوپھی (زينب سلام عليہا) عالمہ غيرمعلمہ ہيں اور ايسي دانا کہ آپ کو کسي نے پڑھايا نہیں ھیں.
زينب سلام عليہا کي حشمت و عظمت کے لئے یہی کافي تھا کہ انہيں خالق کایئنات نے علم ودانش سے سرفراز فرمايا تھا ۔
جناب زينب ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت کي عظيم دولت و نعمت سے بھي بہر مند تھي زينب بنت علي تاريخ اسلام کے مثبت اور انقلاب آفريں کردار کا دوسرا نام ھے ۔
زينب نے اپنے عظيم کردار سے آمريت کو بے نقاب کيا ظلم و استبداد کي قلعي کھول دي اور فانی دنيا پر قربان ہونے والوں کو آخرت کي ابديت نواز حقيقت کا پاکيزہ چہرہ ديکھا يا ، صبرو استقامت کا کوہ گراں بنکر علي عليہ السلام کي بيٹي نے ايسا کردار پيش کيا جس سے ارباب ظلم و جود کو شرمندگي اور ندامت کے سوا کچھ نہ مل سکا ۔
جناب زينب کو علي و فاطمہ عليہما السلام کے معصوم کردار ورثے ميں ملے اما م حسن عليہ السلام کا حسن وتدبير جہاں زينب کے احساس عظمت کي بنياد بنا وہاں امام حسين عليہ السلام کا عزم واستقلال علي عليہ السلام کي بيٹي کے صبر و استقامت کي روح بن گيا ، تاريخ اسلام ميں زينب نے ايک منفرد مقام پايا اور ايساعظيم کارنامہ سرانجام ديا جو رہتي دنياتک دنيائے انسانيت کے لئے مشعل راہ واسوہ حسنہ بن گيا۔



میدان کربلا میں ایک صحیفہ وفا
عابد نے ایسے طوقٍ گراں بار کاٹ دی 
سائے نے جیسے دھوپ کی دیوار کاٹ دی
دیکھا بوقت عصر یہ سورج نے معجزہ
پیاسے گلے نے شمر کی تلوار کاٹ دی 
(صفدر ھمدانی) 
زينب بنت علي(ع)تاريخ اسلام ميں اپني ایک مخصوص انفراديت ھے اور واقعہ کربلا ميں آپ کے صبر شجاعانہ جہاد نے امام حسين عليہ السلام کے مقدس مشن کی تکميل کو يقيني بنايا ۔ آپ نے دين اسلام کي پاکيزہ تعليمات کا تحفظ وپاسداري ميں اپناکردار اس طرح ادا کيا کہ جيسے ابوطالب(ع)رسول اللہ (ص)کي پرورش ميں اپنے بھتيجے کے تحفظ کے لئے اپني اولاد کو نچھا ور کرنا پسند کرتے تھے کيونکہ ان ک اایک مقصد تھا کہ محمد بچ جائے وارث اسلام بچ جائے بالکل اسي طرح زينب کاحال یہ کہ اسلام بچ جائے دين بچ جائے چاھے کوئي بھي قرباني ديني پڑے ۔



تاریخ کربلا اور تحریک زینب
آوازہ یا حسین کا پھر نینوا میں ھے
شبیر تیرے خون کی خوشبو ھوا میں ھے
چہلم کی شان سے ھے پریشان یزیدٍ وقت
زینب تری دعا کا اثر کربلا میں ھے 
(صفدر ھمدانی) 
تاریخ کربلا اور تحریک زینب (ع) میں ایک نیا باب کھلتا ہے زینب اس قافلے کی قافلہ سالار اور بزرگ ہیں کہ جسکے قافلہ سالار امام حسین علیہ السلام تھے جس کے حامی عباس ،(ع)علی اکبر (ع) ۔۔۔ بنی ھاشم اور امام حسین (ع) کے باوفا اصحاب تھے ، وہ غیور مرد جن پر اہل بیت (ع) حرم اور بچوں کو ناز تھا جن کے وجود سے اہل بیت (ع) کو سکون تھا ۔
ایسی حمایت و نگہبانی تھی کہ سید شہدا (ع) کی حیات کے آخری لمحات تک دشمن خیموں کے پاس تک نہ بھٹک سکا ، جنگ کے دوران ابو عبداللہ الحسین (ع) کی، لاحول ولا قوۃ الا بااللہ کی آوازسے ان کی ڈھارس بندھی ہوئي تھی حسین (ع) اس طرح انھیں تسلی دے رہے تھے ۔ 
بہترین عزیزوں کی شہادت پر امام زین العابدین (ع) کے بعد اس قافلہ کی بزرگ خاندان پیغمبر (ص) سے ایک خاتون ہے کہ جس کے عزم و استقلا ل کے سامنے پہاڑ پشیمان، جس کے صبر پر ملائکہ محو حیرت ہیں، یہ علی (ع) کی بیٹی ہے، فاطمہ (س) کی لخت جگر ہے ۔ بنی امیہ کے ظلم کے قصروں کی بنیاد ہلانے والی ہے ، ان کو پشیمان و سرنگوں کرنے والی ہے جناب ذینب تھیں ۔
یہ وہی سیدہ زینب (س) ہے جو اپنے امام (ع) کے حکم سے اولاد فاطمہ (س) کے قافلہ کی سرپرستی کرتی ہیں ، بڑی مصیبتیں اٹھانے کے بعد امام حسین (ع) اور ان کے فداکار اصحاب کے خونی پیغام کو لوگوں تک پہنچاتی ہیں ۔



سوئے کوفہ

زینب یزیدیت پہ مسافر کاایک وار
رمزِ حسین اسوہ ء زینب سے آشکار
زینب ہے کربلا کے شہیدوں کی یادگار
زینب کے دَم سے آج یہ مجلس ہے برقرار
ہر اک دیار میں ہے جو ماتم یتیم کا
صدقہ علی کی بیٹی کے عزمِ صمیم کا
(صفدر ھمدانی) 



’باب صغیر‘ میں کئی صحابی اور اہلبیت مدفون ہیں

گیارہ محرم سن 61ہجری کو اہل بیت (ع) کے اسیروں کاقافلہ کربلا سے کوفہ کی طرف روانہ ہوا ، اھل بیت (ع) کے امور کی باگ دوڑ امام زین العابدین (ع) کے ہاتھ میں ہے کیونکہ آپ امام ہیں اور آنحضرت کی اطاعت کرنا سب پر واجب ہے، قافلہ سالار زینب کبری (س) ہیں ، جو امام زین العابدین (ع) کی قریب ترین ہیں اور خواتین میں سب سے بزرگ ہیں ۔
راہ حق و حقیقت میں کربلا کی فرض شناس خواتین نے امام عالی مقام (ع) کی بہن حضرت زینب کبری (ع) کی قیادت میں ایمان و اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے صبر و تحمل اور شجاعت و استقامت کے وہ جوہر پیش کئے ہیں ۔ جس کی مثال تاریخ اسلام بلکہ تاریخ بشریت میں بھی ملنانا ممکن ہے ۔
کربلا کی شہادت و اسیری کے دوران خواتین نے اپنی وفاداری اور ایثار و قربانی کے ذریعہ اسلامی تحریک میں وہ رنگ بھرے ہیں کہ جن کی اہمیت کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے ۔ وہ خود پورے وقار و جلال کے ساتھ قتل و اسیری کی تمام منزلوں سے گزر گئیں اور شکوے کاایک لفظ بھی زبان پر نہ آيا۔ نصرت اسلام کی راہ میں پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہیں اور اپنے عزم و ہمت کے تحت کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں حسینیت کی فتح کے پرچم لہرادئے حضرت زينب (س) اور ان کی ہم قدم و ہم آواز ام کلثوم (ع) ، رقیہ ( ع) ، رباب (ع) ، لیلا (ع) ، ام فروہ (ع) سکینہ (ع) ، فاطمہ (ع) اور عاتکہ (ع) نیز امام (ع) کے اصحاب و انصار کی صاحب ایثار خواتین نے شجاعت اور ایثار و قربانی کے وہ لازوال نقوش ثبت کیں۔ 
کیسے لہو میں بھر دیا احساس نے حسین 
دشت بلا میں رو کے کہا پیاس نے 
سینے پہ کربلا کے ھے مہرٍ وفا یوں ثبت
بازو کٹا کے لیکھ دیا عباس نے حسین 
(صفدر ھمدانی) 
ظاہر ہے کہ ان خواتین اور بچوں کو سنبھالنا آسان کام نہیں ہے کہ جنہوں نے عاشور کے دن رنج و مشقت اور غم برداشت کۓ تھے ، دل خراش واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اپنے عزیزوں کے داغ اٹھاۓ تھے اور اب وہ بے رحم دشمنوں کے محاصرہ میں ہیں اونٹ کی ننگی پیٹھ پر سوار کافر قیدیوں کی طرح لے جایا جارہا ہے ۔
خواتین کے احساس و جذبات کا بھی خیال رکھنا ہے اور صورت حال میں امام زین العابدین (ع) کی جان کی حفاظت بھی کرنا ہے جوکہ قافلہ میں زینب کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری ہے پیغام کابار آپ پر زیادہ ہے ، لیکن زینب کے حوصلہ میں حد سے زیادہ استقامت اورمقاومت ہے کہ وہ بڑی مشکلوں اور مصائب کے وحشتناک طوفانوں سے ہر گز نہ گھبرائیں اور مقصد امام حسین (ع) کو زندہ جاوید بنانے میں حضرت زینب نے تاریخ کا بے مثال نمونہ پیش کیا ہے ۔



سوئے شام

گھر لٹ گیا ماں جائے کا ناشاد ھے ذینب
سر نیزے پہ شبیر کا فریاد ھے ذینب
منزل تھی کڑی شام کے بازار کی بیشک
ھم سارے مسافر ھیں ھمیں یاد ھے ذینب
(صفدر ھمدانی) 

اسیروں کے قافلہ کو چند روز ابن زیاد کی بامشقت قید میں رکھ کر شام کو روانہ کی

جس زمانہ سے شام مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا تھا اس وقت ہی سے وہاں خالد بن ولید اور معاویہ ابن ابی سفیان جیسے لوگ حاکم رہے ، اس علاقہ کے لوگوں کونہ پیغمبر (ص) کی صحبت میسر ہوئي اور نہ وہ آپ کے اصحاب کی روش سے واقف ہوسکے ،رسول چندصحابی جواس سرزمین پر جاکر آباد ہوگۓ تھے یہ پراگندگی کی زندگی بسر کرتے تھے عوام میں ان کا کوئي اثر و رسوخ نہیں تھا ، نتیجہ میں وہاں کے مسلمان معاویہ ابن ابی سفیان کے کردار اور اس کے طرز زندگی ہی کو سنت اسلام سمجھتے تھے ۔
اسیروں کے قافلہ کے داخلہ کے وقت ایسے ہی لوگوں نے شہر شام کو جشن و سرور سے معمور کررکھا تھا ، یزید نے اپنے محل میں مجلس سجارکھی تھی ، اس کے ہم قماش چاروں طرف بیٹھے تھے تاکہ بزم عم خود اس کامیابی کا جشن منائيں ۔



دربار ٍ یزید میں دختر حیسن کا استقلال

سرحسین (ع) کو یزید کے سامنے لا کر رکھا گیا اور اسی وقت اہل بیت (ع) کے اسیروں کو لایا گیا ، جس دختر حیسن (ع) نے اپنے باپ کے سر بریدہ کو دیکھا تو ہائے با با کہہ کر رونے لگی کہ جس سے مجلس والے پریشان ہوگۓ 
لیکن جب زینب (س) نے اپنے بھائی کا سر دیکھا تو ایسی غم انگیز آواز میں نوحہ پڑھا کہ جس نے کلیجے ہلا دیۓ ۔
" یا حسیناہ ، یا حبیب اللہ ، یا بن مکۃ و منی ، یا بن فاطمۃ الزھراء سیدۃ النساء ، یا بن بنت المصطفی :
اے حیسن (ع) ! اے حبیب خدا ، اے مکہ و منی کے فرزند ، اے دختر رسول فاطمہ زہرا سیدۃ النساء العالمین کے نورنظر
راوی کہتا ہے کہ قسم خدا کی زینب نے مجلس کے ہر شخص کو رلا دیا [22] یزید لعین شراب خوار اپنی جاہ طلبی کے نشہ میں چور خاموش بیٹھا تھا ، اور سید الشھداء کے دندان مبارک پر چھڑی لگارہا تھا [23] اور کہہ رہا تھا : کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا ۔



خطبہ زینب سلام اللہ علیہ

بنت علی تسلسلِ کرب و بلا بنی
انسانیت کے ننگے سروں کی ردا بنی
زینب امیرِ قافلہ ء کربلا بنی
دربارِ شام میں وہ علی کی صدا بنی
دشمن سماعتوں میں زہر گھولتے رہے
زینب کے بازؤں کے رسن بولتے رہے
(صفدر ھمدانی) 
زینب (‏س)اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء (س)کی طرح ظالموں کے سامنے قد بلند کرتی ہیں بھے دربار میں خدا کی حمدو ستائش کرتی ہیں اور رسول(ص) و آل رسول (ع) پر درود بھیجتی ہیں اور پھر قرآن کی آيت سے اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں :
" ثم کان عاقبۃ الذین اساؤاالسوای ان کذبوا بآیا ت اللہ ۔۔۔۔" 
شہرحلب میں ایک پتھر پر امام حسین کے خون کے دھبے نمایاں ہیں یزید تویہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین و آسمان کو ہم پر تنگ کردیا ہے تیرے گماشتوں نے ہمیں شہروں شہروں اسیری کی صورت میں پھرایا تیرے زعم میں ہم رسوا اور تو باعزت ہوگیا ہے ؟ تیرا خیال ہے کہ اس کام سے تیری قدر میں اضافہ ہوگیا ہے اسی لۓ ان باتوں پر تکبر کررہا ہے ؟ جب تو اپنی توانائی و طاقت (فوج) کو تیار دیکھتا ہے اور اپنی بادشاہت کے امور کو منظم دیکھتا ہے تو خوشی کے مارے آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔
تو نہیں جانتا کہ یہ فرصت جو تجھے دی گئی ہے کہ اس میں تو اپنی فطرت کو آشکار کرسکے کیاتو نے قول خدا کو فراموش کردیا ہے ۔ کافر یہ خیال نہ کریں کہ یہ مہلت جو انھیں دی گئي ہے یہ ان کے لۓ بہترین موقع ہے ، ہم نے ان کو اس لۓ مہلت دی ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں ، پھر ان پر رسوا کرنے والا عذاب نازل ہوگا ۔
پسر طلقاء کیا یہ عدل ہے تیری بیٹیاں اور کنیزیں باعزت پردہ میں بیٹھیں اور رسول کی بیٹیوں کو تو اسیر کرکے سربرہنہ کرے ، انہیں سانس تک نہ لینے دیا جاۓ ، تیری فوج انھیں اونٹوں پر سوار کرکے شہر بہ شہر پھراۓ ؟ نہ انہیں کوئي پناہ دیتا ہے ، نہ کسی کو ان کی حالت کاخیال ہے ، نہ کوئی سرپرست ان کے ہمراہ ہوتا ہے لوگ ادھر ا‍‌‌‎ دھر سے انہیں دیکھنے کے لۓ جمع ہونے ہیں ، لیکن جس کے دل میں ہمارے طرف سے کینہ بھرا ہوا ہے اس سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ 
تو کہتا ہے کہ کاش جنگ بدر میں قتل ہونے والے میرے بزرگ موجود ہوتے اور یہ کہہ کر تو فرزند رسول (ص) کے دندان مبارک پر چھڑی لگاتا ہے ؟ کبھی تیرے دل میں یہ خیال نہیں آتا ہے کہ تو ایک گناہ اور برے کام کا مرتکب ہوا ہے ؟ تونے آل رسول (ص) اور خاندان عبدالمطلب کا خون بہا کر دو خاندانوں کی دشمنی کو پھر زندہ کردیا ہے ۔ 
خوش نہ ہو کہ تو بہت جلد خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگا ، اس وقت یہ تمنا کرے گا کہ کاش تو اندھا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا تو یہ کہتا ہے کہ اگر میرے بزرگ اس مجلس میں ہوتے تو خوشی سےاچھل پڑتے ، اے اللہ تو ہی ہمارا انتقام لے اور جن لوگوں نے ہم پرستم کیا ہے ان کےدلوں کو ہمارے کینہ سے خالی کردے ،خداکی قسم تو اپنے آپے سے باہر آ گیا ہے اور اپنے گوشت کو بڑھالیا ہے ۔
جس روز رسول (ص)خدا ،ان کے اہل بیت (ع) ، اور ان کے فرزند رحمت خدا کے سایہ میں آرام کرتے ہوں گے تو ذلت و رسوائی کےساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوگا ۔یہ دن وہروز ہے جس میں خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا وہ مظلوم و ستم دیدہ لوگ جو کہ اپنے خون کی چادر اوڑھے ایک گوشے میں محو خواب ہیں ، انہیں جمع کرے گا ۔
خدا خود فرماتا ہے : " راہ خدا میں مرجانے والوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں ، تیرے باپ معاویہ نے تجھے ناحق مسلمانوں پر مسلط کیا ہے ، جس روز محمد (ص) داد خواہ ہوں گے اور فیصلہ کرنے والا خدا ہوگا ، اور عدالت الہی میں تیرے ہاتھ پاؤں گواہ ہوں گے اس روز معلوم ہوگا کہ تم میں سے کون زیادہ نیک بخت ہے ۔
یزید اے دشمن خدا ! میری نظروں میں تیری بھی قدر و قیمت نہیں ہے کہ میں تجھے سرزنش کروں یا تحقیر کروں ، لیکن کیا کروں میری آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے ہیں دل سے آہیں نکل رہی ہیں ، شہادت حسین (ع) کے بعد لشکر شیطان ہمیں کوفہ سے ناہنجاروں کے دربار میں لایا تاکہ اہلبیت (ع) پیغمبر (ص) کی ہتک حرمت و عزت کرنے پر مسمانوں کے بیت المال سے ، جو کہ زحمت کش و ستم دیدہ لوگوں کی محنتوں کا صلہ ہے ، انعام حاصل کرے ۔
جب اس لشکر کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگین ہوئے اور دہان ہمارے گوشت کے ٹکڑوں سے بھر گۓ ہیں ، جب ان پاکیزہ جسموں کے آس پاس درندہ کتے دوڑ رہے ہیں ایسے موقع پر تجھے سرزنش کرنے سے کیا ہوتا ہے ؟ 
اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ تونے ہمارے مردوں کو شہید اور ہمیں اسیر کرکے فائدہ حاصل کر لیا ہے تو عنقریب تجھے معلوم ہوجاۓ گا کہ جسے تو فائدہ سمجھتا ہے وہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس روز تمہارے کۓ کے علاوہ تمارے پاس کچھ نہ ہوگا ، تو ابن زیاد سے مدد مانگے گا اور وہ تجھ سے ، تو اور تیرے پیروکار خدا کی میزان عدل کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔
تجھے اس روز معلوم ہوگا کہ بہترین توشہ جو تیرے باپ معاویہ نے تیرے لۓ جمع کیا ہے وہ یہ ہے کہ تو نے رسول (ص) خدا کے بیٹوں کو قتل کردیا ۔
قسم خدا کی میں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور اس کے علاوہ کسی سے شکایت نہیں کرتی ، جو چاہو تم کرو ، جس نیرنگی سے کام لینا چاہو لو ، اپنی ہردشمنی کا اظہار کرکے دیکھ لو ، قسم خدا کی جو ننگ کا دھبہ تیرے دامن پر لگ گيا ہے وہ ہرگز نہ چھوٹے گا ، ہر تعریف خدا کے لۓ ہے جس نے جوانان بہشت کے سرداروں کو کامیابی عطا کی ، جنت کو ان کے لۓ واجب قرار دیا ، خداوند عالم سے دعا ہے کہ ان کی عظمت و عزت میں اضافہ فرماۓ ان پر اپنی رحمت کے سائیہ کو مزید گستردہ کردے کہ تو قدرت رکھنے والا ہے ۔
سفیر کربلا کی خوابیدہ ضمیروں میں بیداری
زینب حسینیت کی بقا کا پیام ہے
زینب کلامِ عکسِ امام الکلام ہے
زینب یزیدیت سے عداوت کا نام ہے
زینب دراصل فاتحِ دربارِ شام ہے
لہجے میں مرتضیٰ کے وہ جب بولنے لگی
بنیادِ ظلم وجورو جفا ڈولنے لگی
(صفدر ھمدانی) 
شام والے رفتہ رفتہ عراق میں گزرجانے والے حادثہ کی حقیقت سے آگاہ ہوگۓ اور انہیں یہ معلوم ہوگیا کہ کربلا والے یزید کے حکم اور کوفہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوۓ ہیں رسول (ص) خدا کے نواسے حسین بن علی (ع) اور یہ خواتین بچے جنہیں قیدی بناکر دمشق لایا گيا ہے یہ پیغمبر اسلام (ص) کے اہلبیت (ع) یہ اس کاخاندان ہے جس کی جانشینی کے نام پر یزید ان پر دوسرے مسلمانوں پر حکومت کررہا ہے 
بازار حمیدیہ جہاں شہدائے کربلا کی عورتوں اور بچوں کو اونٹوں پر لایا گیا۔ خطبہ ذینب کبری کے سوختہ جگر اور تقوی سے سرشار دل سے نکلے ہوئے کلمات کا رد عمل یہ ھوا معلوم کہ پتھر دل والا بھی جب ایمان و تقوی سے سرشار ھوا اور خود کو ناتوان اور مدمقابل کو طاقتور سمجھے لگا ۔ چند لحظوں کے بعد ھی قصریزید میں موت کا سناٹا چھاگیا ۔
یزید نے حاضرین کی پیشانیوں سے ناراضی اور نفرت کے آثار دیکھے تو کہنے لگا خدا ابن مرجانہ کو غارت کرے ، میں حسین (ع) کے قتل کو پسند نہیں کرتا تھا ، اس کے بعد اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ اسیروں کو اسی حالت میں رکھنا مصلحت کے خلاف ہے ، حکم دیا کہ انہیں دوسری جگہ منتقل کردو ۔قریش کی خواتین میں سے جو بھی ان سے ملنا چاہتی ہے مل سکتی ہے ۔ 
عظمت زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت اور قوت قلب اس وقت اور اچھی طرح آشکار ہوجاتی ہے کہ جب یزید کی مجلس میں آپ کی روحانی حیثیت اور رخطبہ اپنا اثر قائم کرتا ہے ۔
جس زینب (س) نے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ اور مکہ معظمہ سے کربلا اور کربلاسے کوفہ اور کوفہ سے شام کے سفر کے دوران بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں اور سفر میں ذرہ برابر آرام میسر نہیں آیا اور کسی ایک شخص یا جماعت کی حمایت کے بغیر قافلہ سالاری کو سنبھالے رہیں اور منزل بہ منزل ان کی حفاظت کرتی رہیں ۔
اس ماحول میں لب کشائی کے لۓ شیر کا کلیجہ اور جرئت درکار ہے ، زینب (س) کی رگوں میں علی (ع) و فاطمہ (س) کا خون دوڑ رہا ہے ۔ آپ اپنے زمانہ کے بڑے بت کے سامنے اس شجاعت و شہامت سے ایسے سخن ریز ہوتی ہیں اور اہلبیت (‏ع) کی فریاد مظلومیت پوری تاریخ میں پھیلادیتی ہیں اور خوابیدہ ضمیروں کو بیدار کردیتی ہیں ۔

کلام زینب (س) کے چند نکات

جناب زینب (س) کی تقریر ایسی منطقی اور شعلہ ور تھی کہ جس کس مقابلہ میں کوئي شخص کھڑا نہیں رہ سکتا تھا ، زینب (س) کی تقریر کی قاطعیت و جامعیت نے یزید جیسی پلید شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کردیا اور رسول (ص) اور آل رسول (ع) کی عظمت و کرامت کو یاد دلایا اور الہی اقدار کو اقدار کی ضد سے جدا کردیا ۔
اگر چہ آپ (س) کا پورا خطبہ ہی نکاس معمور ہے اور رھتی دنیا تک چراغ راہ اور سر چشمہ ھدایت ھے لیکن اس کے چند پہلوبہت اھم ھیں جو سیدہ کو سفیر کربلا بنا جاتے ھیں ۔



1. ظالم کی پہچان اس کے سیاہ کارناموں سے ھوتی ھے 

جناب زینب (س) کے خطبہ کے برجستہ ابعاد میں سے ایک پہلو یزید کے خاندان کے سیاہ کارنامے اور اس کی ناپاکی کے ریشے ہیں ، زینب (س) خاندان یزید کی پلیدیوں کو شمار کراتی ہیں اور کسی شخص میں ان کی تردید کی طاقت نہیں ہے ۔ اے یزید تو ہندہ کا بیٹا ہے اور ہندہ وہ عورت ہے کہ جس نے جنگ احد میں لشکر رسول (ص) کے سردار سید الشہداء حضرت حمزہ کا جگر اپنے دانتوں سے چباکر پھینک دیا تھا ،ایسے خاندان سے سانحہ کربلا کے علاوہ اورکوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔
2. تاریخ اسلام میں اسیری کی تعریف 
زینب (س) یزید کو ابن طلقاء کہکر مخاطب کوتی ہیں ، طلقاء ان لوگوں کو کہتے ہیں جو کہ رسول خدا سے دشمنی رکھتے تھے جنگ کرتے تھے لیکن فتح مکہ کے وقت رسول (ص) نے انہیں آزاد کودیا تھا اور فرمایا تھا : "اذ ھبوا انتم الطلقا "_30 جاؤ تم سب آزاد ہو یزید انہیں اشخاص کا بیٹا ہے جنھیں رسول نے آزاد کردیا تھا اور آج اس نے خاندان پیغمبر (ص) کو اسیر بنا رکھا ہے ، اس جملہ کے ذریعہ زینب (س) نے یزید کو یہ سمجھادیا کہ درحقیقت قیدی تو ہے ہماری اسیری ہماری ذلت پر دلیل نہیں ہے اور نہ تیری طاقت تیری عظمت و کامیابی پر دلیل ہے۔
جناب زینب (س) کی اس تقریر سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زینب کو تاریخ اسلام پر کتنا عبور تھا ۔
3. حزب اللہ اور گروہ شیطان

جناب زینب(س) اپنے سرفراز خاندان کے نام کو حزب اللہ اور یزید کے ناپاک خاندان کو گروہ شیطان کے نام سے یاد کرتی ہیں اور فرماتی ہیں : بڑے تعجب کی بات ہے کہ حزب اللہ ، گروہ شیطان اور آزاد شدہ لوگوں کے ہاتھوں مارا جاۓ ، ہمارا خون تمہارے ہاتھوں سے ٹپک رہا ہے اور تمہارے منھ سے ہمارا گوشت نکلا پڑرہا ہے ۔

4. پردہ کی اہمیت

جناب زینب (س) کے کلام سے تمام با ایمان اور اہلبیت (ع) کا اتباع کرنے والوں کو جو پیغام دیا جاسکتا ہے وعفت و حجاب کا پیغام ہے زینب خاندان پیغمبر (ص) کی خواتین بیٹیوں کو قیدی بناکر شہروں شہروں ، کوچہ و بازار میں سربرہنہ مجمع عام میں پھرانے پر تند و سخت لہجہ میں اعتراض کرتی ہیں اور اس حرکت کو عدل کے خلاف قرار دیتی ہیں ، یہ حساسیت مسلمان عورت کے حجاب و عفت کی اہمیت کی غماز ہے ، اس سے ہمیشہ دفاع کرنا چاہۓ ۔
5. پیشن گوئي
زینب (س) نے اپنے خطبہ کے آخر میں اعتماد کے ساتھ فرمایا : اے یزید تو اپنے تمام مکر و حیلوں کو استعمال کرلے اور اپنی پوری طاقت سے کوشش کرلے لیکن قسم خدا کی تو ہماری یاد کو نہیں مٹا سکتا ہے اور وحی الہی کو نابود نہیں کرسکتا ہے _ _ _ ہر تعریف خدا ہی کے لۓ ہے کہ جس نے ہمارا آغاز سعادت و مغفرت سے اور اختتام شہادت و رحمت پر کیا ۔



سایہ کیے سروں پہ ھے چادر بتول کی
مانگو دعا جو چاھو گھڑی ھے قبول کی
کھاتا ہوں میں قسم یہ حدیثٍ رسول ھے
عبرت ھے موت ، دشمنٍ آلٍ رسول کی 
(صفدر ھمدانی)

پاکستان کے وزیر اعظم کی حرم مطہر رضوی میں حاضری

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف گذشتہ روز حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں اپنے وفد کے ہمراہ شرفیاب ہوئے۔


۔ حرم مطہر حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی آفیشل ویب سائیٹ کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شھر مشھد اور حرم مطہر حضرت امام علی رضا علیہ السلام میں حاضری کے موقع پر نہایت خوشحال ہوں کیونکہ حضرت امام رضا علیہ السلام تمام مسلمانان جھان کے لئے قابل احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام رضا علیہ السلام کی منور بارگاہ تمام مسلمانوں اور شیعیان جہان کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور ہر سال پاکستان سے ہزاروں زائر امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے ایران اور مشھد کا سفر کرتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے اس موقع پر حرم مطہر کے ثقافتی اور مذھبی پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حرم مطہر پاکستان سے آنے والے زائرین کے لئے انواع و اقسام کے پروگرام منعقد کرتا ہے اور ہم اس رابطے اور تعامل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے حرم مطہر کی فن معماری اور تعمیرات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حرم مطہر رضوی کی معنوی فضا اور روح افزا ماحول انسان کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ حرم مطہر کی زیارت کے دوران میاں محمد نواز شریف نے نوافل ادا کئے اور دعائیں مانگیں۔ حرم مطہر کی زیارت سے شرفیاب ہونے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنے وفد کے ہمراہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے دسترخوان پر برکت پر ظھرانے کے لئے تشریف لے گئے۔ واضح رہے کہ پاکستانی وزیر اعظم اسلامی جمہوریۂ ایران کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے جائزے اور اقتصادی تعاون کی تقویت کے مقصد سے اسلامی جمہوریہ ایران آئے تھے جہاں اپنے دو روزہ قیام کے دوران انہوں نے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، صدر مملکت ڈاکٹر روحانی، نائب صدر اسحاق جہانگری، وزیر خارجہ جواد ظریف سمیت مختلف اعلیٰ سطح کے حکام سے ملاقتیں کی۔

پہلے امام(ع) کا یوم ولادت باسعادت


تیرا رجب سن تیس عام الفیل کو رسول اکرم (ص) کے چچازاد بھائی داماد اور جانشین حضرت علی (ع) کی خانۂ کعبہ  میں ولادت باسعادت ہوئی

                                                                                                         
 تیرارجب سن تیس عام الفیل کو رسول اکرم (ص) کے چچازاد بھائی داماد اور جانشین حضرت علی (ع) کی خانۂ کعبہ میں ولادت باسعادت ہوئی ۔ آپ کے والد ابو طالب علیہ السّلام اور ماں فاطمہ بنتِ اسد علیھا السلام کو جو خوشی ھونی چاھیے تھی وہ تو ھوئی ھی مگر سب سے زیادہ رسول الله اس بچے کو دیکھ کر خوش ھوئے . شاید بچّے کے خد وخال سے اسی وقت یہ اندازہ ھوتا تھا کہ یہ آئندہ چل کر رسول کاقوتِ بازواور دستِ راست ثابت ھوگا . آپ کی والدۂ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد اوروالد گرامی کا نام ابوطالب تھا ۔حضرت علی (ع) نے بچپن سے ہی رسول اکرم (ص) کی آغوش میں پرورش پائي ۔سنہ 2 ھ میں دختر رسول (ص) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔شب ہجرت بستر رسول (ص) پر سوکرنبی اکرم کی جان بچائي اور مدینے میں بھی غزوۂ تبوک کےعلاوہ رسول اکرم (ص) کی تمام غزوات میں حضرت علی (ع) شریک تھے اور ہر مرحلے میں آپ (ص) کے یار و مدد گار تھے۔حضرت علی (ع) انتہائي شجاع اور بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نرم دل اور لطیف طبیعت کے مالک تھے ۔آپ جس طرح محاذ جنگ پردشمنوں سےمردانہ وارمقابلہ کرتے تھے اسی طرح اسلامی معاشرے میں بھی کسی ناجائز عمل کو برداشت نہیں کرتے تھے ۔آپ اسلامی حق و انصاف کےحقیقی علمبردار تھے ۔آپ اطاعت اور بندگي خدا اس طرح انجام دیتے تھے کہ عبادت کے وقت دنیا کی خبر نہیں رہتی تھی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلالت میں اس طرح کھوجایا کرتے تھے گویا آپ زمین پرنہ ہوں بلکہ عالم ملکوت میں سیرکررہے ہوں ۔حضرت علی (ع) کے یوم ولادت کی مناسبت سے آپ کا ایک زرین قول پیش خدمت ہے ۔آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش آؤ کہ اگر مرجاؤ تو تم پرلوگ روئیں اور اگر زندہ رہو تو تمہارے ساتھ نیکی کری
ں

علی(ع) کے نام و نسب
نام و نسب
حضرت علی (ع) : شیعوں کے پھلے امام
اسم گرامی : علی (ع)
لقب : امیر المومنین
کنیت : ابو الحسن
والد کا نام : عمران ( ابو طالب )
والدہ کا نام : فاطمہ بنت اسد
تاریخ ولادت : ۱۳/ رجب ۳۰ ء عام الفیل
جائے ولادت : مکّہ معظمہ خدا کے گھر میں ( خانہ کعبہ کے اندر )
مدّت امامت : ۳۰ / سال
عمر مبارک : ترسٹہ (۶۳) سال
تاریخ شھادت : ۲۱/ رمضان المبارک ۴۰ھء مسجد کوفہ میں
شھاد ت کا سبب : عبد الرحمن بن ملجم کی زھر آلودہ ضربت کا اثر


روضہٴ اقدس : عراق ( نجف اشرف )
اولاد کی تعداد : ۱۸/ بیٹے ، ۱۸/ بیٹیاں
بیٹوں کے نام : (۱) امام حسن مجتبیٰ (ع) (۲) امام حسین (ع)(۳) محمد حنفیہ (۴) عباس اکبر (۵) عبد اللہ اکبر (۶) جعفر اکبر (۷) عثمان (۸) محمد اصغر (۹) عبد اللہ اصغر (۱۰) عبد اللہ مکنی بابی علی (۱۱) عون (۱۲) یحییٰ (۱۳) محمد اوسط (۱۴) عثمان اصغر (۱۵) عباس اصغر (۱۶) جعفر اصغر(۱۷) عمر اکبر (۱۸) عمر اصغر۔
بیٹیوں کے نام : (۱) زینب کبریٰ (۲) زینب صغریٰ بہ نام ام کلثوم (۳) رملة کبریٰ (۴) ام الحسن (۵) نفیسہ (۶) رقیہ صغریٰ (۷) رملةصغریٰ (۸) رقیہ کبریٰ (۹) میمونہ (۱۰) زینب صغریٰ (۱۱) ام ّ ھانی (۱۲) فاطمة صغریٰ (۱۳) امامہ (۱۴) خدیجہ صغریٰ (۱۵) امّ کلثوم (۱۶) ام ّ سلمہ (۱۷) حمامہ (۱۸) ام کرام ۔
بیویاں : ۱۲
انگوٹھی کے نگینے کا نقش: الملک للّہ الوٰحد القھّار
تربیّت
حضرت علی علیہ السّلام کی پرورش براهِ راست حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے ذریعے ھوئی۔ آپ نے انتھائی محبت اور توجہ سے اپنا پورا وقت اس چھوٹے بھائی کی علمی اور اخلاقی تربیت میں صرف کیا. ذاتی جوھر اور پھر رسول جیسے بلند مربیّ کافیض تربیت، چنانچہ علی دس ھی برس کے سن میں ایسے تھے کہ پیغمبر کے دعوائے رسالت کرنے پر ان کے سب سے پھلے پیرو بلکہ ان کے دعوے کے گواہ قرار پائے .
زمانہ مصائب
پیغمبر کادعوائے رسالت کرنا تھا کہ ھر ھرذرہ رسول کادشمن نظر آنے لگا . وھی لوگ جو کل تک آپ کی سچائی اورامانتداری کادم بھرتے تھے آج آپ کو ( معاذ الله) دیوانہ , جادو گر اور نہ جانے کیا کیا کھنے لگے, راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے , پتھر مارے جاتے اور سر پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا تھا . اس سخت وقت میں رسول کا ھر مصیبت میں شریک صرف ایک بچّہ تھا , وھی علی جس نے بھائی کاساتہ دینے میں کبھی ھمت نھیں ھاری , برابرمحبت ووفاداری کادم بھرتے رھے , ھر ھربات میں رسول کے سینہ سپر رھے , یھاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب مخالف گروہ نے انتھائی سختی کے ساتہ یہ طے کرلیا کہ پیغمبر کااور ان کے تمام گھرانے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے , حالات اتنے خراب تھے کہ جانوں کے لالے پڑ گئے تھے . ابو طالب علیہ السّلام نے حضرت محمد مصطفےٰ سمیت اپنے تمام ساتھیوں کو ایک پھاڑ کے دامن میں قلعہ میں محفوظ کردیا , تین برس تک یہ قید وبند کی زندگی بسر کرنا پڑی . اس میں ھر شب یہ اندیشہ تھا کہ کھیں دشمن شب خون نہ مار دے . اس لئے ابو طالب علیہ السّلام نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ رات بھر رسول کو ایک بستر پر نھیں رھنے دیتے تھے بلکہ جعفر(ع) کو رسول کے بستر پر اور رسول کو عقیل (ع)کے بستر پر اور پھر رسول کو جعفر(ع)کے بستر پرلٹا دیتے تھے اورپھر رسول کو علی علیہ السّلام کے بستر پر. مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن رسول کے بستر کاپتہ لگا کر حملہ کرنا چاھے تو میرا کوئی بھی بیٹا قتل ھوجائے مگر رسول کا بال بیکانہ ھو. اس طرح علی بچپن ھی سے فدا کاری اور جان نثاری کے سبق کو عملی طور پر دھراتے رھے.
ھجرت
اس کے بعد وہ وقت آیا کہ ابو طالب علیہ السّلام کی وفات ھوگئی جس سے اس جاں نثار چچا کی وفات سے پیغمبر کا دل ٹوٹ گیا اور آپ نے مدینہ کی طرف ھجرت کاارادہ کرلیا جس پر دشمنوں نے ارادہ کیا کہ ایک رات جمع ھو کر پیغمبر کے گھر کو گھیر لیں اور حضرت کو شھید کرڈالیں , حضرت کو اس کی اطلاع ھوئی تو آپ نے اپنے جاں نثار بھائی علی کو بلا کر اس واقعہ کی اطلاع دی اور فرمایا کہ میری جان کی حفاظت یوں ھوسکتی ھے کہ تم آج کی رات میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جاؤ اور میں مخفی طور پر مکہ سے روانہ ھوجاؤں . کوئی دوسرا ھوتاتو یہ پیغام سنتے ھی اس کا دل دھل جاتا , مگر علی نے یہ سن کر کہ میرے ذریعہ رسول کی جان کی حفاظت ھوگی خدا کاشکر ادا کیا اور بھت خوش ھوئے کہ مجھے رسول کافدیہ قرار دیا جارھا ھے , یھی ھوا کہ رسالت مآب شب کے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ھوگئے اور علی علیہ السّلام رسول کے بستر پر سوگئے , چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے نیزے لئے ھوئے مکان کوگھیرے ھوئے تھے . بس اس بات کی دیر تھی کہ ذرا صبح ھو او رسب کے سب گھر میں گھس کر رسالت ماب کو شھید کر ڈالیں . علی علیہ السّلام اطمینان کے ساتہ بستر پرآرام کرتے رھے اور ذرا بھی اپنی جان کاخیال نہ کیا دشمنوں کو صبح کے وقت معلوم ھوا کہ محمد تو رات ھی چلے گئے تھے.
تیرھویں رجب کی اہمیّت
ماہ رجب ، شعبان اور ماہ رمضان کی تیرھویں شب میں دو رکعت نماز مستحب ہے کہ اس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یٰسین، سورہ ملک اور سورہ توحید پڑھے چودھویں شب میں چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے اسیطرح پڑھے اور پندرھویں شب میں چھ رکعت نماز دو دو کرکے اسی طرح سے پڑھے امام جعفر صادق -کا ارشاد ہے کہ اس طریقے سے یہ تین نمازیں بجالانے والا ان تینوں مہینوں کی تمام فضیلتیں حاصل کرے گا اور سوائے شرک کے اس کے سبھی گناہ معاف ہو جائینگے ۔
تیرھویں رجب کا دن
یہ ایام بیض کا پہلا دن ہے اس دن اور اسکے بعد کے دو دنوں میں روزہ رکھنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے، اگر کوئی شخص عمل ام داؤد بجالانا چاہتا ہے تو اس کیلئے 13 رجب کا روزہ رکھنا ضروری ہے .
شخصیت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کی نظر میں
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نہج البلاغہ کا اجمالی تعارف
نہج البلاغہ وہ عظیم المرتبت کتاب ھے جس کو دونوں فریق کے علماء معتبر سمجھتے ھیں، یہ مقدس کتاب امام علی علیہ السلام کے پیغامات اور گفتار کا مجموعہ ھے جس کو علامہ بزرگوار شریف رضی علیہ الرحمہ نے تین حصوں میں ترتیب دیا ھے جن کا اجمالی تعارف کچھ یوں ھے:
۱۔ حصہ اول: خطبات
نہج البلاغہ کاسب سے پھلا اور مھم حصہ امام علی علیہ السلام کے خطبات پر مشتمل ھے جن کو امام علیہ السلام نے مختلف مقامات پر بیان فرمایا ھے، ان خطبوں کی کل تعداد (۲۴۱ ) خطبے ھیں جن میں سب سے طولانی خطبہ ۱۹۲ ھے جو خطبہٴ قاصعہ کے نام سے مشھور ھے اور سب سے چھوٹا خطبہ ۵۹ ھے۔
۲۔ حصہ دوم: خطوط
یہ حصہ امام علیہ السلام کے خطوط پر مشتمل ھے، جو آپ نے اپنے گورنروں اور دوستوں، دشمنوں، قاضیوں اور زکوٰة جمع کرنے والوںکے لئے لکھے ھیں، ان سبب میں طولانی خط ۵۳ ھے جو آپ نے اپنے مخلص صحابی مالک اشتر کو لکھا ھے اور سب سے چھوٹا ۷۹ ھے جو آپ نے فوج کے افسروں کو لکھا تھا۔
۳۔ حصہ سوم: کلمات قصار
نہج البلاغہ کا آخری حصہ ۴۸۰ چھوٹے بڑے حکمت آمیز کلمات پر مشتمل ھے جن کو کلمات قصار کھا جاتا ھے، یعنی مختصر کلمات، ان کو کلمات حکمت اور قصار الحِکم بھی کھا جاتا ھے، یہ حصہ اگرچہ مختصر بیان پر مشتمل ھے لیکن ان کے مضامین بہت بلند پایہ حیثیت رکھتے ھیں جو نہج البلاغہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ھیں۔
مقدمہ
کسی شخصیت کی شناخت اور پہنچان کا سب سے مھم ذریعہ یہ ھے کہ وہ شخصیت اپنی پہچان خود کرائے، چونکہ ھر شخص اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت بہتر پہچانتا ھے، اسی قاعدے کی بنا پر آئیں امام علی علیہ السلام کی شخصیت کو خود اُن کی زبان سے پہچانیں۔
چونکہ ایک طرف سے امام معصوم کی مکمل شناخت عام انسانوں کی قدرت سے باھر ھے اس لئے امام علی علیہ السلام کی ملکوتی شخصیت کو ان کے بیانات عالیہ سے پہچانیں اور اُن کی سیرت طیبہ کی معرفت حاصل کریں، اور اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں۔
البتہ یھاں پر ایک اعتراض ذہن میں آسکتا ھے کہ اپنی تعریف اپنے منھ کرنا اسلامی نقطہ نظر اور اسلامی تعلیمات کے مخالف ھے، آیا امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں جو اپنی مدح و تعریف فرمائی ھے یہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ھم آہنگ نھیں ھے؟
اس مختصر تحریر میں ھم اس اعتراض کا جواب بیان کریں گے تاکہ امام عالی مقام کی ملکوتی شخصیت اظھر من الشمس ھوجائے، انشاء اللہ، خداوندکریم ھماری مدد فرمائے اور اپنی توفیقات سے نوازے۔
پہلا باب
اپنی تعریف کی دلیلیں
اگر کوئی شخص اپنی ایسی تعریف کرے جو خلاف واقع ھو تو وہ قطعاً حرام ھے اور اگر وہ شخص اپنی تعریف کرنے میں سچا ھو اور تعریف حقیقت کے مطابق ھو تو اس کی دو صورتیں ھیں:
ایک مرتبہ ایسی تعریف بیان کرنے کی مصلحت تقاضا نھیں کرتی، اسی صورت میں اگر کوئی شخص اپنی تعریف کرتا ھے تو یہ تعریف قابل مذمت ھے، لیکن اگر تعریف سچی ھو اور مصلحت بھی اس کا تقاضا کرے تو اس صورت میں اپنی تعریف کرنا ضروری ھے۔
اس مذکورہ بیان کی روشنی میں دیکھیں اور غور فرمائیں کہ امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اپنی جو تعریف بیان فرمائی ھے وہ صداقت پر مبنی ھونے کے ساتھ ساتھ مصلحت نے اس کا تقاضا کیا تو امام علیہ السلام نے پہنچان اور شناخت کو لازم سمجھا، ھم ذیل میں چند دلیلوں کے پیش کرتے ھیں تاکہ حقیقت واضح اور روشن ھوجائے۔
۱۔ پہلی دلیل: اتمام حجت
پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد ایسے حالات پیش آئے جن کی وجہ سے امام علی علیہ السلام کی شخصیت و مقام کو پس پشت ڈال دیا گیا، خلفاء کے پچیس سالہ دور حکومت میں امام علیہ السلام کی ملکوتی شخصیت کو ظلمت و تاریکی کے حجاب میں چھپا دیا گیا۔
جب امام علیہ السلام کو ظاھری خلافت ملی اس وقت بھی اُن کو اندرونی جنگوں میں اُلجھا دیا گیا اس زمانہ میں امام علیہ السلام کو جس نسل کاسامنا کرنا پڑا وہ جوان نسل آپ کی شخصیت سے آگاہ نھیں تھی، اس وجہ سے امام علیہ السلام کے لئے ضروری تھا کہ آپ اس نسل جوان کے سامنے اپنا تعارف کرائیں اور اتمام حجت کریں تاکہ یہ جوان نسل اصحاب جمل و صفین کے فتنوں میں گمراہ نہ ھوجائیں، اس لئے امامِ امت ھونے کی بنا پر بھی امام علیہ السلام کے لئے ضروری تھا کہ اپنا تعارف کرائیں تاکہ لوگ آپ کی تعلیمات اور سیرت سے فیض حاصل کریں جیسا کہ انبیاء علیھم السلام بھی جب تشریف لاتے تھے تو سب سے پھلے اپنا تعارف کراتے تھے۔
دوسری دلیل: خدا کی نعمتوں پر شکر
امام علی علیہ السلام اپنی شخصیت کا تعارف اُن نعمتوں کے ذریعہ کراتے تھے جو خداوندعالم نے اپنے خصوصی فضل و کرم کی بنیاد پر امام علیہ السلام کو اُن نعمتوں سے مالامال فرمایا، امام علیہ السلام نعمت کی اھمیت اور نعمت دینے والے کی اھمیت کو بیان کرنے کے ساتھ اپنا تعارف یوں کراتے ھیں:
”میں ( علی) وہ ھوں جس نے عرب کے بڑے بڑے بھادروں کے چھکے چھڑا دئے تھے، میں وہ ھوں جس نے شرک کی آنکھیں نکال دیں اور عرش شرک کو لرزہ براندام کردیا، میں اپنے جھاد کے ذریعہ خدا پر کوئی احسان نھیں کرتا اور میں اپنی عبادت پر نازاں نھیں ھوں بلکہ میں اپنے پروردگار کی ان نعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرتا ھوں“۔
[1] 
تیسری دلیل: حقائق تاریخی بیان کرنا
ھر حادثہ اور واقعہ تاریخ کے صفحات پر رقم ھو جاتا ھے، تاریخ نگار اور تاریخ لکھنے والے اُس کو بعد والی نسلوں کی طرف منتقل کرتے ھیں، ابھی سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ یہ انتقال کیسے انجام پاتا ھے، آیا حقیقت اور مثبت حوادث کو نقل کیا جاتا ھے یا حقائق پر پردہ ڈال کر جھوٹ اور فریب کے ذریعہ؟ جب اسلام جزیرة العرب میں پھیلا تو بہت سی تبدیلیاں اور انقلاب وجود میں آئے ، درحالیکہ امام علی علیہ السلام کا نقش ظھور اسلام میں خاص اھمیت کا حامل تھا۔
لیکن جب پیغمبر اعظم (ص) اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف چل بسے اور جھان اسلام کی ریاست و حکومت میں تبدیلی آئی تو کافی بزرگ شخصیات کا مقام گرا دیا گیا اور بہت سے لوگوں کو مقام جعلی دے دیا گیا حتی کہ اُن کے لئے جھوٹے فضائل کو گڑھا گیا اور امام علی علیہ السلام کو لوگوں کی نظروں میں گرانے کی سعی لاحاصل کی گئی، اسی وجہ سے جب امام علی علیہ السلام کو ظاھری خلافت ملی تو آپ پر لازم ھوگیا تھا کہ اپنی شناخت بھی کرادیں اورتاریخی حقائق سے پردہ اٹھادیں تاکہ آئندہ آنے والی نسل کے لئے آپ کی شخصیت منارہ نور بن کر مشعل راہ بن جائے۔
چوتھی دلیل: اپنی مظلومیت کا دفاع
جھان اسلام میں سیاسی تغیر و تبدل کی وجہ سے اجتماعی اور ثقافتی یلغار نے جنم لیا جس کا سب سے زیادہ اثر امام علی علیہ السلام کی شخصیت پر پڑا، چونکہ امام علیہ السلام اسلام کی مصلحت کی خاطر گوشہ نشین ھونے پر مجبور ھوگئے تھے، اس پُر آشوب دور میں بھی اپنی مظلومیت کو بیان کرتے رھے۔
خاص طور پر جب خوف زدہ کرنا اپنے عروج پر تھا اس زمانہ میں کچھ لوگ خوف و وحشت کی وجہ سے خاموش ھوگئے اور کچھ لوگ دنیا دار بن بیٹھے، اور اپنی زبانیں بند کرکے خاموشی اختیار کرلی، ایسے حالات میں علی علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کرانا کسی کے بس میں نھیں تھا، چونکہ امام علیہ السلام کے مخالفین نے جب حکومت کی باگ ڈور ھاتھ میں لے لی تو برملاٴ اور علی الاعلان امام پر تبراٴ کیا جانے لگا، اور دیگر اصحاب کے فضائل بیان ھونے لگے، ان حالات میں امام علی علیہ السلام کو پہنچان کرانا بہت ضروری تھا، یعنی امام علیہ السلام اس زمانہ میں اپنی مظلومیت کا دفاع کرتے رھے اور لوگوں کو حقیقت حال سے باخبر کرنے کے لئے اپنی شناخت اور پہچان کو ضروری سمجھا۔
مذکورہ چار دلیلوں کی بنا پر کھا جاسکتا ھے بلکہ کہنا ضروری ھے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی جو تعریف فرمائی ھے وہ تعلیمات اسلامی سے ذرا بھی مخالف نھیں ھے، بلکہ اسلامی اقدار کا دفاع ھے۔
دوسرا باب
شخصیت امیر المومنین نہج البلاغہ کی نظر میں
ابھی ھم امام علی علیہ السلام کی شخصیت کو انھیں کی زبانی بیان کرتے ھیں، آپ نے نہج البلاغہ میں جو آپ کے فرامین کا مجموعہ اور مقدس ترین کتاب ھے یہ ایسی با عظمت کتاب ھے جس کو دونوں فریق (سنی و شیعہ) کے علماء مقدس اور محترم سمجھتے ھیں، آپ نے اپنی شخصیت کا کچھ اس انداز میں تعارف کرایا ھے جو اختصار کے ساتھ آپ کے لئے باعث استفادہ ھیں۔
۱۔ عظمت علی (ع) پیغمبر اسلام کی نگاہ میں
(الف) علی (ع)، آغوش رسول(ص) کے پروردہ
امام علی علیہ السلام وہ ذات پُر برکت ھیں جن کو یہ فخر حاصل ھے کہ آپ کی پرورش رسول خدا (ص) کی آغوش میں ھوئی ھے، رسول خدا (ص) کی آغوش میں پرورش پانے والے کامل اور اکمل انسان نہج البلاغہ میں یوں فرماتے ھیں:
” وَقَدْ عَلِمْتُمْ مَوضَعِی مِن رَسُولِ الله بِالقَرَابَة القَرِیْبَةِ وَ المَنْزِلَةِ الخَصِیْصةَ وَضعنی ِفی حِجْرِہِ وَ اٴنَا وَلَدٌ یَضُمَّنِي إلیٰ صَدْرِہِ، وَ یَکْنُفْنِي فِی فَرَاشِہِ ۔۔۔ وَ کَان یَمْضَغُ الشَّی ثُمَّ یُلْقِمُنِیْہِ“۔[2]
”امام علیہ السلام فرماتے ھیں (اے لوگو) تم رسول خدا کے ساتھ میری منزلت کو جانتے ھو،میں آپ کا قریبی رشتہ دار اور آپ کے خواص سے ھوں، رسول اللہ مجھے بچپن میں اپنی آغوش میں بٹھاتے تھے اور اپنے سینے سے لگایا کرتے تھے، مجھے اپنے ساتھ سلاتے تھے، میرا بدن آپ کے بدن سے مس ھوتا تھا میں آپ کی خوشبو سونگھتا تھا۔
رسول خدا (ص) غذا کو اپنے مبارک دانتوں سے چبا کر میرے منھ میں رکھتے تھے، رسول خدا (ص) میرے کردار میں کسی قسم کا کذب یا خطا نھیں پاتے تھے، میں چھوٹا ھی تھا کہ خدا نے اپنے رسول کے ساتھ ایک فرشتہ کو مقرر فرمایا جو آپ کو دن رات اخلاق و کرامات کی طرف راہنمائی کرتا تھا میں بھی اونٹنی کے بچے کی مانند جو اپنی ماں کے پیچھے رہتا ھے، پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ ساتھ رہتا تھا، رسول اللہ (ص) مجھے ھر روز اچھے اخلاق سے ایک نقطہ تعلیم فرماتے اور مجھے اس پر عمل کرنے کا حکم دیتے تھے[3]
اس بیان سے واضح و روشن ھوجاتا ھے کہ امام علیہ السلام کی پرورش خود رسول اللہ نے فرمائی تھی، کیونکہ رسول خدا (ص) امام علیہ السلام کو اپنے مشن کا وراث جانتے تھے، اتنا اہتمام اس لئے فرمایا۔
(ب) علی (ع) آغاز وحی میں پیغمبر کے ساتھ
امام علی علیہ السلام وہ بلند مقام شخصیت ھیں جنھوں نے نور وحی کو اپنی آنکھوں سے مشاھدہ فرمایا اس لئے تو رسول ختمی مرتبت نے فرمایا تھا، اے علی جو میں دیکھتا ھوں وہ آپ بھی دیکھتے ھیں جو میں سنتا ھوں وہ آپ بھی سنتے ھیں۔
امام علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ھیں:
”وَ لَقَدْ کَانَ یُجَاوُرِ فِي کُلّ سَنَةٍ بِحْرَاءَ فَاٴرَاہُ وَلَا یَراہُ غَیرِي، وَلَمْ یَجْمَعْ بَیْتٌ وَاحِدٌ یَومَئِذٍ فِي إلاسُلَامِ غَیْرَ رَسُولَ الله (ص)، وَ خَدِیْجَةَ وَ اٴنَا ثَالِثُہُمَا“۔[4]
”امام فرماتے ھیں رسول خدا (ص) ھر سال کچھ عرصہ غار حرا میں جایا کرتے تھے، میں ان کو دیکھتا تھا میرے علاوہ کوئی انھیں نھیں دیکھتا تھا، اُس زمانہ میں واحد گھر جس میں رسول خدا (ص)اور جناب خدیجہ اور تیسر ا میں تھا کوئی اور گھر میں نھیں تھا“۔
اس کے بعد فرماتے ھیں:
”اٴرَیٰ نُورَ الْوَحْيِ وَ الرِّسَالَةَ، وَ اٴشُمُّ رِیْحَ النَّبُوَةِ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشِّیْطَانِ حِیْنَ نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللهِ مَا ہَذِہِ الرَّنَّةُ، فَقَالَ (ص) ہٰذَا الشِّیْطَانُ قَدْ اٴیِسْ مِنْ عِبَادَتِہِ، إنَّکَ تَسْمَعُ مَا اٴَسْمَعُ وَ تَریٰ مَا اٴَریٰ إلاَّ اٴنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍ وَ لَکِنَّکَ لَوَزِیرٌ وَ اٴنَّکَ لَعَلیٰ خَیْرٍ“۔[5]
”میں نے نور وحی اور نور رسالت کو دیکھا، رسول خدا (ص) کی دلپذیر خوشبو کو سونگھتا تھا، میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کے رونے کی آواز کو سنا، اور میں نے رسول اکرم (ص) سے پوچھا: یا رسول اللہ یہ کس کے رونے کی آواز ھے تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا: ی ہ شیطان رو رھا ھے چونکہ وہ آج سے اپنی عبادت سے مایوس ھوگیا ھے، اس کے بعد رسول (ص)نے فرمایا: یا علی جو میں سنتا ھوں آپ بھی سنتے ھیں، اور جو میں دیکھتا ھوں ، آپ بھی دیکھتے ھیں مگر آپ نبی نھیں ھیں، بلکہ میرے وزیر اور جانشین ھیں، اور آپ خیر پر ھیں“۔



ھم تمام امت اسلام کو چیلنج کرکے کہہ سکتے ھیں کہ آؤ ، رسول اسلام کے بعد کوئی ایسی شخصیت دکھاؤ جس کے بارے میں خود رسول اکرم (ص) نے فرمایا ھو کہ آپ میرے جانشین اور وزیر ھیں، جو میں سنتا ھوں وہ آپ بھی سنتے ھیں جو میں دیکھتا ھوں وہ آپ بھی دیکھتے ھیں، یہ فخر صرف اور صرف علی بن ابی طالب علیہ السلام کو حاصل ھے، لیکن دنیائے اسلام آج تک پریشان ھے کہ رسول اکرم (ص) کا حقیقی جانشین کون تھا، پس ھم یہ جملہ کہنے پر مجبور ھوجاتے ھیں کہ علی علیہ السلام کل بھی مظلوم تھے اور آج بھی مظلوم ھیں۔
(ج) علی (ع)سب سے پھلے نماز پڑھنے والے
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ھیں:
”اَللّٰہُمَّ اِنّي اٴوَّلَ مَنْ اٴَنَابَ وَ سَمِعَ وَ اٴجَابَ لَمْ یَسْبِقْنِی إلاَّ رَسول الله بالصَّلاة“۔[6]
”میں وہ سب سے پھلا شخص ھوں جس نے رسول اکرم (ص) کی طرف رجحان پیدا کیا اور اُن کی دعوت کو سنااور قبول کیا، میں سب سے پھلا نماز گزار ھوں، رسول(ص) کے علاوہ کوئی شخص ”مجھ سے پھلا نمازی نھیں ھے“ اور مجھ سے سابق نھیں ھے۔
(د) علی (ع) جانثار رسول(ص)
امام علی علیہ السلام خطبہ نمبر ۱۹۷ میں ارشاد فر ماتے ھیں:
”وَ لَقَدْ عَلِمَ المُسْتَحْفِظُونَ مِنْ اٴصْحَابِ مُحَمَّدٍ(ص) اٴَنِّی لَمْ اَرُدُّ عَلیٰ الله وَ لَا عَلیٰ رَسُولِہِ سَاعَةً قَطُّ، وَ لَقَدْ وَاسَیْتُہُ بِنَفْسِي فِي المَوَاطِنِ الَّتِي تَنْکُصُ فِیْہَا الاٴبْطَالُ وَ تَتَاٴخَّرُ فِیْہَا الاٴقْدَامُ، نَجْدَةً اٴکْرَمَنِي الله بِہَا“۔[7]
”اصحاب محمد میں سے صاحبان اسرار جانتے ھیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا و رسول (ص) کی مخالفت نھیں کی، بلکہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مشکل مقامات پر ان کی نصرت کی جھاں بڑے بڑے سورما بھاگ جاتے تھے، اور اُن کے قدم لڑکھڑا جاتے تھے، خدا نے اس شجاعت و دلیری کے ذریعہ میری لاج رکھی ”اور میں نے پیامبر کا دفاع کیا“۔
قارئین کرام!یہ وہ خصوصیات اور خوبیاں ھیں جو فقط امام عالی مقام کا طرہ امتیاز تھیں کوئی با شعور انسان اس حقیقت کا انکار نھیں کرسکتا، لیکن وہ لوگ جن کے دلوں پر مھریں لگ چکی ھیں وہ کبھی حقیقت کو بیان نھیں کرسکتے اور نہ اس کو ہضم کرسکتے ھیں۔
۲۔ حضرت علی (ع) کی علمی شخصیت
پیغمبر عظیم الشان اسلام کا ارشاد گرامی ھے کہ ”میں علم کا شھر ھوں اور علی اس کا دروازہ“ ، جن افراد کو شھر علم تک پہنچنا ھے ان کو دو دفعہ علی (ع) کا محتاج ھونا ضروری ھے ایک دفعہ جاتے ھوئے اور دوسری مرتبہ واپس آتے ھوئے، امام علیہ السلام نہج البلاغہ میں اپنی علمی شخصیت کو یوں بیان کرتے ھیں:
فَاٴسْاٴلُوْنِي قَبْلَ اٴنْ تَفْقِدُوْنِي فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ لَاتَسْاٴلُوْنِي عَنْ شَيٍ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ السَّاعَةِ وَ لَا عَنْ فِیٴةٍ تَہْدِي مِاَئةً وَ تُضِلُّ مِاَئةً إلاَّ اٴَنْبَاتُکُمْ بِنَاعِقَہَا وَ قَائِدَہَا وَ سَائِقِہَا“[8]
”مجھ سے بوچھ لو قبل اس کے کہ میں تمھارے درمیان نہ رھوں، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ھے، ممکن نھیں ھے کہ تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمھیں جواب نہ دے سکوں، میں آج سے قیامت تک کے واقعات کی خبر دے سکتا ھوں، ایک گروہ جو سو بندوں کو ھدایت کرتا ہ ے یا سو بندوں کو گمراہ کرتا ھے وہ بھی بتا سکتا ھوں، اُن کے ھانکنے والے ان کے رہبروں اور ان کے سربراھوں کے بارے میں مطلع کرسکتاھوں“۔
یہ کلمات امام علی علیہ السلام کے علم کی ایک جھلک ھے، اور شاھد ھے کہ کائنات میں آپ جیسا عالم نہ تھا نہ ھوگا، اور یہ آپ کی اولویت پر واضح دلیل ھے۔
۳۔ حضرت علی اور شھادت طلبی
کبھی آپ نے میدان جنگ سے فرار نہ فرمایا، نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۲ میں فرماتے ھیں:
”وَ مِنَ الْعَجَبِ بَعْثُہُمْ إلیٰ اٴنْ اٴبْرَزَ لِلطَّعَانِ! وَ اٴنْ اٴَصْبِرْ لِلْجَلَادِ، ہَبَلَتْہُمْ الہَبُوْلُ، لَقَدْ کُنْتُ َو مَا اٴَہَدَّدَ بِالْحَرْبِ وَ لَا اٴَرْہَبُ بِالضَّرْبِ، وَ اِنِّي لَعَلیٰ یَقِیْنٍ مِنْ رَبِّي وَ غَیْرَ شُبْہَةٍ مِنْ دِیْنِي“۔[9]
”مجھے تعجب ھے اُن پر جو مجھ سے چاہتے ھیں کہ میں ان کے نیزوں کے سامنے حاضر ھوجاؤں، اور ان کی تلوار کے سامنے صبر کروں، سوگواران کے غم میں روئیں، میں نہ جنگ سے ڈرتا ھوں اور نہ تلوار سے خوف زدہ ھوں، میں خدا پر یقین رکھتا ھوں، اور شک و شبہ میں مبتلا نھیں ھوں“
۔یہ کلمات امام علیہ السلام کے شوق شھادت پر واضح شاھد ھیں۔
۴۔ حضرت علی (ع) کی عدالت
امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ھیں:
”وَ الله لَقَدْ رَاٴئتُ عَقِیْلاً وَ قَدْ اٴمْلَقَ حَتیّٰ اَسْتَمَاحَنِي مِن بُرِّکُمْ صَاعاً وَ رَائتُ صِبْیَانَہُ شُعْثَ الشُّعُوْرِ غَبِرَ الاٴلْوَانِ مِنْ فَقْرِہِمْ کَاٴنَّمَا سوِّدَتْ وُجُوْہُہُمْ بِالْعَظْمِ وَ عَاوَدَنِي مُوٴَکِّداً“۔[10]
”خدا کی قسم میں نے دیکھا کہ میرا بھائی عقیل تنگ دست ھے، اور اُس نے مجھ سے درخواست بھی کی کہ بیت المال سے کچھ وظیفہ بڑھادیں اور میں نے ان کے بچوں کو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے اُن کے بال اور رنگ متغیر ھوچکا تھا، عقیل نے بار بار اصرار بھی کیا۔۔۔ تاکہ میں عدالت سے ھاتھ اٹھالوں، لیکن میں نے لوھے کی گرم سلاخ کو عقیل کی طرف بڑھایا، عقیل چونکے، اے بھائی مجھے آگ سے جلانا چاہتے ھو تو میں نے کھا: اے عقیل تم دنیا کی آگ میں جلنا پسند نھیں کرتے لیکن مجھے جہنم کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ھو جو زیادہ سخت ھے“۔
اسے عدالت محوری کھا جاتا ھے کہ سگے بھائی کو جو تنگدست بھی ھے بیت المال سے زیادہ دینا گوارہ نھیں کیا جاتا۔
۵۔ حضرت علی (ع) کا زھد و تقویٰ
امام علی علیہ السلام کے زھد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کو خبر دی گئی کہ عثمان بن حنیف جو بصرہ کا گورنر تھا وہ کسی ایسی دعوت میں اور ایسی محفل میں شامل ھوئے ھیں جھاں سب اُمراء شریک تھے، اس میں غریب نہ تھے، تو امام علی علیہ السلام نے اس کے پاس ایک خط لکھا اور متنبہ کرتے ھوئے فرمایا:
”اَلاَ وَ إنَّ لِکُلِّ مَامُوْمٍ اِمَاماً یَقْتَدِي بِہِ۔۔۔ اِلاَّ وَ اِنَّ اِمَامَکُمْ قَدْ اِکْتَفیٰ مِنْ دُنْیَاہُ بِطِمْرَیْہِ وَمِنْ طَعْمِہِ بِقُرْصَیْہِ“۔[11]
”اے حنیف کے بیٹے!“ آگاہ رھو کہ ھر ماموم کے لئے ایک امام ھوتا ھے جس کی وہ پیروی کرتا ھے اور اس کے علم کے نور سے روشنی حاصل کرتا ھے، کیا تمھیں نھیں معلوم آپ کا امام دنیا سے دو پُرانے کپڑے پہن کر اور دو خشک روٹیاں کھا کر گزر بسر کرتا ھے، (اور تم ایسی دعوت میں شریک ھوتے ھو)
۶۔ نیاز مندوں کے ساتھ ھمدردی
امام علی علیہ السلام محتاج اور نیازمند لوگوں کے ساتھ ھمدردی فرماتے تھے، چنانچہ آپ ھی کا فرمان ھے: 
”اَ اٴَقْنَعَ مِنْ نَفْسِي بِاٴنْ یُقَالُ ہَذَا اٴمِیْرُ الْمُوْمِنِیْنَ وَ لَا اُشَارِکْہُم فِي مَکَارِہِ الدَّہْرِ“۔[12]
”کیا میں اس بات پر اپنے نفس کو قانع کرلوں کہ مجھے امیر المومنین کھا جائے، جبکہ ان کی مشکلات اور تلخیوں کے ساتھ شریک نہ ھوں، بلکہ میں مشکلات میں ان کے لئے نمونہ بنوں گا، میں ”علی“ لذیذ غذا کھانے کے لئے پیدا نھیں ھوا ھوں جیسا کہ حیوانات کا پورا ھم و غم چارہ اور گھاس ھوتا ھے۔
امام علی علیہ السلام مقصد خلقت کو درد بانٹنے اور ھمدردی انسانیت کے اندر پیادہ کرتے ھوئے نظر آتے ھیں، یعنی انسان کو عیش و عشرت کے لئے خلق نھیں کیا گیا ھے، بلکہ انسانیت کی ھمدردی کے لئے خلق کیا گیا ھے، یھی تو انسانیت کا امتیاز ھے۔
۷۔ حضرت علی (ع)اور حق محوری
امام علیہ السلام حق پرست، حق جو، حق دوست اور حق گو تھے، جیسا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: ”علی مع الحق، و الحق مع علی“، علی حق کے ساتھ ھیں اور حق علی (ع)کے ساتھ ھے، امام علیہ السلام کو پورا جھاد حق کے قیام کے لئے تھا، چنانچہ آپ نہج البلاغہ میں فرماتے ھیں:
”وَ الله لَہِیَ اٴحَبُّ إلَیَّ مِنْ إمْرَ تِکُمْ إلاَّ اٴَنْ اٴُقِیْمَ حَقّاً اٴوْ اٴَدْفَعَ بَاطِلاً“۔[13]
”قسم بہ خدا! میرے اس جوتے کی قیمت تم پر حکومت کرنے سے زیادہ ھے مگر یہ کہ اس کے ذریعہ سے حق کو قائم کرسکوں اور باطل کو مٹا سکوں“۔
اس کے بعد اسی خطبہ میں ارشاد فرماتے ھیں:
”فَلا نْقَبَنَّ الْبَاطِلَ حَتّیٰ یَخْرُجُ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِہِ“۔[14]
”میں باطل کو شگافتہ کرنا چاہتا ھوں تاکہ حق کو اس کے پھلو سے نکال لوں“۔
قارئین کرام! ان جملوں کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی حق دوستی اور حق محوری روشن ھوجاتی ھے۔
۸۔ حضرت علی اور وداع پیغمبر(ص)
امام علی علیہ السلام پیغمبر اسلام کے فدا کار سپاھی اور جانثار ساتھی تھے، اور آخری لمحات تک پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت ِاقدس میں رھے، یھاں تک کہ رسول اکرم (ص) کی رحلت کے وقت وداع کرنے والے بھی آپ ھی تھے، وداع پیغمبر کو نہج البلاغہ میں یوں فرماتے ھیں:
”وَ لَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ (ص) وَ إنَّ رَاسَہُ لَعَلٰی صَدْرِي، وَ لَقَدْ سَاٴَلَتْ نَفْسَہُ فِي کَفِّی فَاٴَمْرَرْتُہَا عَلیٰ وَجْہِي وَ لَقَدْ وَلَّیْتُ غُسْلَہُ وَ الْمَلَائِکَةُ اٴَعْوَانِي، فَضَجَّتِ الدَّارُ وَ الاٴَفْنیةُ مَلاٌ یَہْبِطُ وَ مَلاٌ یَعْرُجُ وَ مَا فَارَقَتْ سَمْعِي ہَیْنَمَةُ مِنْہُمْ یَصَلُّوْنَ عَلَیْہِ“۔[15]
”جب رسول خدا (ص) کی روح قبض ھوئی ان کا سر میرے سینے پر تھا، میرے ھاتھوں پر انھوں نے جان دی، میں نے ھی پیغمبر کو غسل دیا جبکہ ملائکہ میری مدد کررھے تھے، فرشتوں کی رونے کی آواز در و دیوار سے آرھی تھی، ان ملائکہ کا ایک گروہ نازل ھوتا تھا ایک آسمان کی طرف جاتا تھا، اُن کی دھیمی آواز میں سن رھا تھا جس کے ساتھ وہ پیغمبر پر دورد پڑھتے جاتے تھے، یھاں تک کہ پیغمبر اکرم (ص) کو سپرد خاک کردیا گیا، لہٰذا رسول اسلام (ص) کی زندگی اور موت کے بارے میں مجھ سے بڑھ کر کوئی شخص آنحضرت (ص) کے قریب نہ تھا“۔ 
قارئین کرام! پیغمبر اکرم (ص) کی پوری زندگی میں علی علیہ السلام آپ کے محافظ اور جانثار کے طور پر آپ کی حفاظت میں مشغول رھے ھر میدان میں آپ کی آواز پر لبیک کہتے رھے یھاں تک رحلت کے موقع پر جب سب حضرات آپ کا جنازہ چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ میں چلے گئے لیکن وارث رسول غسل و کفن میں مصروف رھا، ان روشن دلیلوں کے باوجود جو آپ کے وارث رسول ھونے میں شک کرے وہ شخص اپنی قسمت پر گریہ کرے، امام علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں یہ چند معروضات تھیں ، اختصار کو مد نظر رکھتے ھوئے اسی پر اکتفاء کیا جاتا ھے۔
خداوندعالم ھمیں آپ کے پیرو حقیقی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
--------------------------------------------------------------------------------
[1] شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید، ج۲۰، ص ۲۹۶۔
[2] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[3] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[4] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔ 
[5] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[6] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۳۱۔ 
[7] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۷۔
[8] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[9] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۲۔
[10] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۴۔
[11] نہج البلاغہ ، خطبہ ۴۵۔
[12] نہج البلاغہ ، خط نمبر ۴۵۔
[13] نہج البلاغہ ، خطبہ ۳۳۔
[14] نہج البلاغہ ، خطبہ ۳۳۔
[15] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۷۔
حضرت امام علی علیہ السلام کی چند احادیث
حدیث (۱)
قال علی علیہ السلام :
”واعلم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت “
ترجمھ
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
” لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیں کی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت(ع) کی وصیت ھے “۔
حدیث (۲)
قال علی علیہ السلام:
” انما قلب الحدث کالارض الخالیہ ما القی فیھا من شئی قبلتہ فباد رتک بالادب قبل ان یقسو قلبک و یشتغل لبک “
ترجمہ:
” حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن (ع) سے فرمایا :
بچے کا دل خالی زمین کے مانند ھے جو بھی اسے تعلیم دی جائے گی وہ سیکھے گا لھذا میں نے تمھاری تربیت میں بہت ھی مبادرت سے کام لیا قبل اس کے کہ تمھارا دل سخت اور فکر مشغول ھو جائے “ ۔
حدیث (۳)
قال علی علیہ السلام:
” العافیہ عشرة اجزاء تسعة منھافی الصمت الابذکر اللھ و واحد فی ترک مجالسة السفھاء “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
” خیر وعافیت کے ۱۰ اجزاء ھیں ان میں سے ۹ اجزاء خاموش رھنے میں ھیں سوائے ذکر خدا کے اورایک جز بیوقوفوں کی مجلس میں بیٹھنے سے پرھیز کرنے میں ھے “ ۔



حدیث (۴)
قال علی علیہ السلام:
”من نصب نفسہ للناس اما ما فعلیہ ان یبداٴ بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرھ
و لیکن تادیبہ بسیرتہ قبل تادیبہ بلسانہ “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
” جو شخص اپنے کو لوگوں کی پیشوائی و رھبری کے لئے معین کرے اسکے لئے ضروری ھے کہ لوگوں کو تعلیم دینے سے پہلے خود تعلیم حاصل کرے ، اور آداب الٰھی کی رعایت کرتے ھوئے لوگوں کو دعوت دے ،قبل اس کے کہ زبان سے دعوت دے ( یعنی سیرت ایسی ھو کہ زبان سے دعوت دینے کی ضرورت نہ پڑے)“۔
حدیث (۵)
قال علی علیہ السلام:
” من کانت ھمتہ ما یدخل بطنہ ، کانت قیمتہ ما یخرج منہ “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
” ھر وہ شخص جس کی تمام کوشش پیٹ بھرنے کے لئے ھے اسکی قیمت اتنی ھی ھے جو اس کے پیٹ سے خارج ھوتی ھے “ ۔



حدیث (۶)
قال علی علیہ السلام:
”الا لا خیر فی علم لیس فیہ تفھم ،الا لا خیر فی قراٴة لیس فیھا تدبر ،الا لا خیر فی عبادة لا فقہ فیھا “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
” آگاہ ھو جاؤ ! وہ علم کہ جس میں فھم نہ ھو اس میں کوئی فائدہ نھیں ھے ، جان لو کہ تلاوت بغیر تدبر کے سود بخش نھیں ھے ، آگاہ ھو جاؤ کہ وہ عبادت جس میں فھم نہ ھو اس میں کوئی خیر نھیں ھے“ ۔
حدیث (۷)
قال علی علیہ السلام:
” ما المجاھد الشھید فی سبیل اللہ باعظم اجرا ممن قد رفعف “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
”وہ شخص جو جھاد کرے اورجام شھادت نوش کرے اس شخص سے بلند مقام نھیں رکھتا جو گناہ پر قدرت رکھتا ھو لیکن اپنے دامن کو گناہ سے آلودہ نہ کرے “ ۔



حدیث (۸)
قال علی علیہ السلام:
” التوبة علی اربعة دعائم :ندم بالقلب ، استغفار باللسان وعمل بالجوارح وعزم ان لا یعود “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :”حقیقت توبہ چار ستونوں پر استوار ھے : دل سے پشیمان ھونا، زبان سے استغفار کرنا ،اعضاء کے عمل کے ذریعے اور دوبارہ ایسا گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا “
حدیث (۹)
قال علی علیہ السلام:
”ولیخزن الرجل لسانہ ، فان ھذا اللسان جموح بصاحبہ و اللہ ما اری عبدا یتقی تقویٰ تنفعہ حتی یخزن لسانہ “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
” انسان کو چاھیے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اس لئے کہ یہ سرکش زبان اپنے صاحب کو ھلاک کر دیتی ھے خدا کی قسم ! میں نے کسی بندہ ٴمتقی کو نہیں دیکھا جس کو اس کے تقوی نے نفع پھونچایا ھو مگر یہ کہ اس نے اپنی زبان کی حفاظت کی ھو “۔
حدیث (۱۰)
قال علی علیہ السلام:
”لا تجعلوا علمکم جھلا و یقینکم شکا اذا علمتم فاعملوا ، و اذا تیقنتم فاقدموا “
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :” اپنے علم کو جھل میں اور یقین کو شک میں تبدیل نہ کرو۔ جب کسی چیز کے بارے میں علم ھو جائے تو اسی کے مطابق عمل کرو اور جب یقین کی منزل تک پھونچ جاؤ تو اقدام کرو “ ۔



حوالہ:
۱۔ وسائل الشیعہ ج ۱۲ ص ۱۵۵
۲۔منتخب میزان الحکمة ص ۱۸ ح ۱۴۸
۳۔بحار ج ۷۴ ص ۲۳۷
۴۔ بحار ج۲ ص ۵۶
۵۔غرر الحکم
۶۔ اصول کافی باب صفة العلماء ح۳
۷۔نھج البلاغہ الحمکة ۴۷۴
۸۔بحار ج ۷۸ ص ۸۱
۹۔نھج البلاغہ خطبہ ۱۷۶
۱۰۔ نھج البلاغہ حکمت ۲۷۴