جب قلم لکھنے لگا حضرتِ عباس کا نام
پھول بن بن کے کھلا حضرتِ عباس کا نام
جب بھی آلودہ فضاﺅں میں کھلے اُن کا علم
پاک کرتا ہے فضا حضرتِ عباس کا نام
یوں لگا گھر میں میرے چاند اُتر آیا ہے
میں جو دُہراتا رہا حضرتِ عباس کا نام
تھی کڑی دھوپ مجھ پہ گھنا سایا تھا
بس میرے ذہین میں تھا حضرتِ عباس کا نام
مشکلیں آ کے میرے پاس پڑی مشکل میں
اُن کوبھی لینا پڑا حضرتِ عباس کا نام
نام عباس کا عباس نہیں ہو تا اگر
بلقین ہوتا وفا حضرتِ عباس کا نام
مجھ کو ریحان میری ماں نے سکھائی ہے یہ بات
بس وضیفہ ہو تیرا حضرتِ عباس کا نام
ہاتھوں میں علم تھامے علمدار ہیں سارے
جان دینے کو غـازی۴ میرے تیار ہیں سارے
روکے سے رکے کا نہیں لشکر یہ عـلی کا
یہ سر پہ کفن باندھے عــزادار ہیں سـارے
اے _دشمنن مـولا عـلی۴ ذرا سـوچ کے آنا
شیعہ کے جـواں آج بھی بیــدار ہیں سارے
تعـــداد میں کم جان کے ان سے نہ الجھنا
تنہائی میں بھی میثـــم _تمـار ہیں سارے
حضرت فاطمہ زہرا[ع] ;
قالَتْ (سلام الله عليها): نحن وسيلته في خلقه و نحن خاصته و محل قدسه و نحن حجته في غيبه و نحن ورثه أنبيائه
ہم اہل بيت رسول خدا (ص) خدا كے ساتھ مخلوقات كے ارتباط كا وسيلہ ہيں؛ ہم خدا كي برگزيدہ ہستياں ہيں اور نيكيوں كا مقام اعلي ہيں، ہم خدا كي روشن دليليں ہيں اور انبياءُاللہ كے وارث ہيں.
(شرح نهج البلاغه ج 16 ، ص 211)
قالَتْ (سلام الله عليها): نحن وسيلته في خلقه و نحن خاصته و محل قدسه و نحن حجته في غيبه و نحن ورثه أنبيائه
ہم اہل بيت رسول خدا (ص) خدا كے ساتھ مخلوقات كے ارتباط كا وسيلہ ہيں؛ ہم خدا كي برگزيدہ ہستياں ہيں اور نيكيوں كا مقام اعلي ہيں، ہم خدا كي روشن دليليں ہيں اور انبياءُاللہ كے وارث ہيں.
(شرح نهج البلاغه ج 16 ، ص 211)
کراچی میں 28 مئی کی صبح ماڑی پور روڈ پر ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ کوثر ثقلین اور ان کے دو کمسن بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ نمائش چورنگی پر ادا کی گئی۔ نماز جنازہ مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق رضا تقوی نے پڑھائی۔ اِس موقع پر علامہ دیدار علی جبلبانی، ایڈوکیٹ تصور حسین، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ عباس کمیلی سمیت دیگر علماء و ذاکرین اور ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔ علامہ صادق تقوی نے نماز جنازہ کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کربلائے عصر کے شہدا ہیں کہ جنہوں نے یزیدیت کو بے نقاب کیا ہے۔ نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظالم جتنا بھی ظلم کرے گا وہ اُتنا ہی رسوا اور بد نام ہوتا جا رہا ہے اور انشاء اللہ اسے شکست فاش سے دوچار ہونا پڑے گا۔
آ در اهلبیت پر کوئی سوال تو کر یه گھرانه بڑا هی لجپال هے. معاف کر دے گا تجھے بهی حر کی طرح جسکی مزار اب حسین ابن علی کے ساتھ هے. ظلم کی مثال هے قبر یزید کی جو آج ایک گندگی کا ڈهیر هے. مظلوم کربلا کی تو شان تو دیکھ جسکی مزار آج بهی ایک سجده گاه هے. توں کهتا هے که میں بڑا عبادت گزار هوں. عبادت تو الله کی کرتا تھا جمال بهی اب جسکا نام شامل منافقوں میں هے. توں غیروں کے پیچھے بھاگتاهے جنت خریدنے. گل جنت تو پنجتن پاک کے قدموں کی دھول هے.
اميرالمومنين حضرت علی علیہ اسلام
خداوندعالم نے محمد (ص) کو نبی برحق بناکربھیجاتاکہ وہ لوگوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کرخداکی عبادت کرائیں ، بندوں کے عہد و پیمان سے خارج کر کے خدا کے عہد و پیمان کے بندھن میں باندھ دیں، بندوں کی اطاعت چھوڑ کرخدا کی اطاعت میں لگ جائیں ، بندوںکی
ولایت سے خارج ہوکرخداکی ولایت میں داخل ہوجائیں۔
(فروع کافی،ج ۸ ص ۳۸۶)
Subscribe to:
Posts (Atom)




.jpg)













.jpg)