نوجوان لبنانی لڑکی جس کو اپنی شہادت کی خبر تھی + تصاویر

ویسے تو بیروت کے جنوب میں منگل کے روز تکفیری دہشت گردوں کے کار بم دھماکے میں شہید ہونے والے تمام افراد کی داستان ہمارے لئے غم انگیز ہے لیکن ماریا الجوہری کی داستان مختلف ہے۔ اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ "تکفیری دہشت گردوں کے چوتھے حملے میں شہید ہوجاؤں گی"۔ 


نوجوان لبنانی لڑکی جس کو اپنی شہادت کی خبر تھی + تصاویر
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایشیا نیوز ویب سائٹ نے لکھا: ماریا الجوہری نے شارع العریض میں تکفیری دہشت گردوں کے تیسرے دہشت گردانہ حملے کے بعد فیس بک ٹائم لائن پر لکھا: یہ دہشت گردوں کا تیسرا دھماکہ ہے جس سے میں بال بال بچ گئی ہوں، میں کچھ نہیں جانتی شاید چوتھے حملے میں شہید ہوجاؤں، کافی غم محسوس کررہی ہوں۔
اس نوجوان لبنانی لڑکی کی والدہ نے ان کی تصویریں شائع کرتے ہوئے ماریا سے مخاطب ہوکر کہا: میں تو تیری شادی دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ ماریا تو شہید ہوگئی۔ 
منگل (20 جنوری 2014) کو لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوب میں "حارہ حریک" کے علاقے میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں چار لبنانی شہید اور 46 افراد زخمی ہوئے۔ شہداء میں نوجوان لڑکی ماریا الجوہری بھی شامل تھی۔ 
اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ سے وابستہ تکفیری ـ وہابی دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ نے قبول کی ہے۔







5
تیسرے دھماکے کے بعد ماریا الجوہری کا فیس بک پیغام


اگر سعودی کربلا کے قریب آنے کی کوشش کریں تو ہم نماز ظہر جنت البقیع میں ادا 

.کریں گے

دہشت گردی کے خلاف عراقی عوام اور حکومت کی جنگ کے دوران آل سعود کی دھمکیوں کے جواب میں عراقی اسپیشل فورسز کے کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل فاضل البرواری" کے دھمکی آمیز موقف کو عالمی سطح پر کوریج دی گئی۔ انھوں نے کہا: اگر آل سعود نے کربلا کے قریب آنے کی کوشش کی تو ہم نماز ظہر مدینہ پہنچ کر جنت البقیع میں ادا کریں گے۔ 

اگر سعودی کربلا کے قریب آنے کی کوشش کریں تو ہم نماز ظہر جنت البقیع میں ادا کریں گے
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل فاضل البرواری نے ایک سماجی نیٹ ورک میں اپنی ٹائم لائن پر لکھا: اگر سعودی حکام کربلا میں ہمارے مقدس مقامات پر حملہ کرنا چاہیں، یا حتی عراقی سرزمین کے ایک انچ حصے پر قبضہ کرنے کے بارے میں سوچے، ہم نماز ظہر مدینہ منورہ اور جنت البقیع میں ادا کریں گے۔ 
البرواری نے صوبہ الانبار میں دہشت گردوں کے ہاتھوں چاری عراقی سپاہیوں کے قتل پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دھمکی دی اور کہا: ہم ان چار سپاہیوں کے بدلے میں تکفیری تنظیم داعش کے چار ہزار دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتاریں گے۔ 
دریں اثناء عراقی فورسز نے "البوفراج" نامی قبیلے کے شیخ کو ـ ان سپاہیوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں ـ گرفتار کرلیا ہے۔ 
ادھر مقتول عراقی سپاہیوں کے اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے عزیزوں کا خون پامال نہ ہونے دے، البوفراج قبیلے کے زعیم کو رہا نہ کرے اور اس کو قانون کے دائرے میں، قرار واقع سزا دیتے ہوئے شہدا کے خون کا انتقال لے۔ 
فاضل البرواری نے کچھ عرصہ قبل بھی اپنی ٹائم لائن پر لکھا تھا: عرب ممالک سے 4000 ہزار دہشت گردوں نے عراق پہنچ کر خودکش کاروائیاں کیں جن میں زيادہ تر دہشت گردوں کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔
عراقی اسپیشل آپریشنز کےکمانڈر بریگیڈیئر جنرل فاضل البرواری

حال ہی میں ناقابل انکار دستاویزات شائع ہوئی ہیں جو الانبار اور الفلوجہ کے واقعے میں آل سعود کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کررہی ہیں اور القاعدہ کے بعض گرفتار سرغنوں نے اعتراف کیا ہے کہ الانبار میں فوجی کاروائی آغاز ہونے سے ایک روز قبل آل سعود نے ستر لاکھ ڈالر اس صوبے میں موجود دہشت گردوں کے سپرد کئے تھے اور ہدایت کی تھی کہ فوری طور پر اس علاقے میں "اسلامی امارت" کے قیام کا اعلان کریں اور سعودی عرب فوری طور پر اس حکومت کو تسلیم کرے گی۔ 
جنرل فاضل البرواری عراقی کرد ہیں جو کرد مزاحمت کے دوران اپنے خاندان کے کئی افراد کی صدام کے ہاتھوں شہید ہونے کے بعد خود بھی مزاحمت فورسز میں شامل ہوئے اور 2003 میں امریکی جارحیت کے بعد انھوں نے اپنے علاقوں کے تحفظ کے لئے ایک لشکر تشکیل دیا اور پھر دہشت گردی کے خلاف عراقی قوم کی جدوجہد میں شامل ہوئے اور آج 20 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد عراق کی اسپیشل آپریشنز فورسزے کے کمانڈر کی حیثیت سے فرائض نبھا رہے ہیں۔ 
صوبہ بلوچستان میں زائرین کی بس پر دھشتگردانہ حملہ، ۲۲ زائرین شہید


پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے درینگڑھ میں زائرین کی بس کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 22 زائرین شھید اور خواتین، بچوں اور فورسز اہلکاروں سمیت 44افراد زخمی ہوئے۔

صوبہ بلوچستان میں زائرین کی بس پر دھشتگردانہ حملہ، ۲۲ زائرین شہید
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے درینگڑھ میں زائرین کی بس کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 22 زائرین شھید اور خواتین، بچوں اور فورسز اہلکاروں سمیت 44افراد زخمی ہوئے۔
کوئٹہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں ایران سے براستہ تفتان کوئٹہ جانے والی زائرین کی بس کو دھشتگردوں نے نشانہ بنایا، دھماکے کے بعد بس میں آگ لگ گئی جس سے وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ قافلے کے ساتھ آنے والی کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، دھشتگردوں نے بس پر اندھا دھند فائرنگ بھی کی، امدادی ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو سول اور سی ایم ایچ اسپتال منتقل کردیا جہاں ڈاکٹرز کے مطابق بعض زخمیوں کی حات انتہائی تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ دھماکے میں 100 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔
شیعہ علما کونسل، مجلس وحدت المسلمین اور تحفظ عزاداری کونسل نے زائرین کی بس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان بھر میں 3 روزہ سوگ اور کل کوئٹہ میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ یکم جنوری کو کوئٹہ میں زائرین کی بس پر حملے کے نتیجے میں بھی متعدد زائرین شھید اورمتعدد زخمی ہوگئے تھے جب کہ اس سے قبل بھی مستونگ کے علاقے میں کوئٹہ سے آنے والے اور ایران سے واپس جانے والے زائرین کی بسوں پر کئی بار حملے کئے جاچکے ہیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد شھید اور زخمی ہو چکے ہیں اور ان حملوں کی زیادہ تر ذمہ داری کالعدم دھشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی قبول کرچکی ہے۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا

میری حدیث میرے والد کی حدیث ہے اور میرے والد کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے اور میرے دادا کی حدیث امام حسین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسین علیہ السلام کی حدیث امام حسن علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسن علیہ السلام کی حدیث امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث قول اللہ عز و جلّ ہے۔ 
Ref: ( بحارالا نوار: ج 2، ص 178، ح 28


مرگ یزید 

یزید بن معاویہ خلیفہ سویم کے زمانے میں پیدا ہوا۔ اس کی ماں کا نام میسون بنت بجدل کلبی تھا اور وہ شام کے کلبیہ قبیلہ کی عیسائی تھی 
یزید نے معاویہ کے بعد 60 سے 64 ہجری تک تخت سنبھالا۔ اس کے دور میں سانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور جگر گوشہ بتول سلام اللہ علیھا، امام حسین علیہ السلام شہید کئے گئے۔ امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک یزید کے دربار میں لے جایا گیا تو اس نے سر دیکھ کر اشعار پڑھے کہ آج میں نے اپنے خاندان کے بدر اور احد کے مقتولین کا بدلہ لے لیا۔ روایات کے مطابق اسی نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا حکم دیا اور عبداللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب امام حسین علیہ السلام کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور امام کے اہل خانہ کو ایک سال قید میں رکھا۔ 
اسی کے دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور حضرت عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری کی گئی اور آگ برسائی گئی جس سے خانہ کعبہ نذر آتش ہو کر منہدم ہو گیا-

کتے پالنا، شطرنج کھیلنا ، زنا کرنا اور شراب پینا اس کے عام مشاغل تھے - اس نے ایک بندر بھی پالا ہوا تھا جس کو قیمتی کپڑے پہنا کر یہ ایک گدھے پر بیٹھا کر ریس (دوڑ) لگواتا تھا- ناچ گانے والی عورتوں سے رغبت اس کا خاص مشغلہ تھا- 

امام حسن علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان صلح کی ایک بنیادی شرط یہ تھی کہ معاویہ کے بعد کوئی جانشین مقرر نہیں ہوگا مگر معاویہ نے یزید کو جانشین مقرر کیا اور اس کے لیے بیعت لینا شروع کر دی۔ کچھ اصحاب رسول رضی اللہ تعالٰی عنہم نے اس بیعت سے انکار کر دیا جیسے حضرت عبداللہ بن زبیر۔ 
امام حسین علیہ السلام نے بھی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ یزید کا کردار اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں تھا۔ یزید کی تخت نشینی کے بعد اس نے امام حسین سے بیعت لینے کی تگ و دو شروع کر دی۔ یزید نے مدینہ کے گورنر کو سخت احکامات بھیجے کہ امام حسین سے بیعت لی جائے۔ امام نے مدینہ چھوڑا اور مکّہ میں تشریف لے آے
مکّہ سے امام نے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ کے حالات معلوم کرنے کوفہ روانہ کیا - یزید نے جب محسوس کیا کہ کوفہ کا گورنر مسلم بن عقیل کے معاملے میں نرمی سے کام لے رہا ہے تو اس نے گورنر کو معزول کر کے ابن زیاد کو گورنر بنا کر بھیجا جو نہایت شقی القلب تھا۔ ابن زیاد نے جناب مسلم اور حضرت ہانی کو شہید کر دیا 
مورخین نےلکھا ہے کہ ابن زیاد نے یزید کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خاندان رسالت کو قتل کیا اور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا ۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔ یزید نے حسین علیہ السلام کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوے اپنے کچھ اشعار پڑھے جن سے اس کا نقطۂ نظر معلوم ہوتا ہے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے

'کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا ، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئي فرشتہ آیا ہے- 

واقعہ حرّہ جو سن 64 ہجری میں رونما ہوا کے بعد یہ ملعون زیادہ دن زندہ نہ رہا اور واصل جہنم ہو گیا- اس کی موت کے سلسلے میں مختلف روایت ہیں -کچھ مورخین کے مطابق یہ پراسرار بیماری کا شکار ہو کے مرا- کچھ کے مطابق اس کی موت شکار کھیلتے ہوے گھوڑے سے گرنے سے ہوئی - کچھ کے مطابق اس کو جنگل میں شکار کے دوران پیاس لگی اور یہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا اور ایک جھونپڑی تک پھنچا اور جھونپڑی کی مالکن یا مالک نے اس کو پہچان کر قتل کر دیا- اور کچھ کے نزدیک دوران شکار اس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا
اس کی قبر دمشق میں ایسی جگہ ہے جہاں غلاظت پھینکی جاتی ہے- 
یہ 14 ربیع الاول 64 ہجری کو اپنے انجام کو پھنچا 


تحریر :- ایڈمن بلینڈ آف ہسٹری 

حوالہ جات :- 
١- یزید تاریخ کے آئینہ میں (عمر ابو النصر قدسی)
٢- 14 ستارے (نجم الحسن کراروی) 
٣- آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
٤- دربار یزید (سید فیض الحسن موسوی)
٥- تاریخ اسلام (مسٹر ذاکر حسین)
حضرت امام جعفرصادق عليه السلام
=====================
آپ کی ولادت باسعادت
آپ بتاریخ ۱7/ ربیع الاول ۸۳ ھ مطابق ۲۰۷ ءیوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے (ارشادمفیدفارسی ص ۴۱۳ ،اعلام الوری ص ۱۵۹ ،جامع عباسی ص ۶۰ وغیرہ)۔
آپ کی ولادت کی تاریخ کوخداوندعالم نے بڑی عزت دے رکھی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا(جنات الخلوج ص ۲۷)
پیغمبر اسلام ؐ ارشاد فرماتے ہیں

ثَلَاثَۃ مِنَ الذُّنُوب تَعَجَّلُ عُقُوبَتُھٰا وَ لٰاتوِئَخِّرُ اِلی الٰآخِرَۃ عُقُوقُ الوَالِدَیْن وَ البَغْیِ عَلیٰ النَّاسِ وَ کُفرُ الِاحسٰان ۔
تین گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا ہی میں فوراَمل جاتی ہے خدا اس کوقیامت پر نہیں چھوڑتا:۱۔والدین کی نا فرمانی اور ان کو اذیت دینا ۲۔لوگوں پر ظلم وستم کرنا ۳۔لوگوں کے احسان اور نیکیوں کو بھلا دینا
امام علی رضا نے 

امام علی رضا نے امام موسیٰ کاظم سے انہوں نے اپنے والد امام جعفر صادق علیہ لسلام سے اور انہوں نے اپنے والد امام محمد باقر سے اور انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام اور انہوں نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار امام علی ابن _ابی طالب علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ رسول الله (ص) نے ارشاد فرمایا :

" الله عز و جل ایک لاکھہ چوبیس ہزار بنی خلق کیے کہ الله کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ صاحب _اکرام میں ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں اور الله عزوجل نے ایک لاکھہ چوبیس ہزار وصی خلق کیے کہ ان میں الله کے نزدیک علی علیہ السلام سب سے زیادہ صاحب _اکرام ہیں اور سب سے افضل بھی "

{ خصال شیخ الصدوق، صفحہ_٣٦٨ }

Execution Of Saddam Hussain.


History Today.




Execution Of Saddam Hussain. 

Saddam was executed by hanging at approximately 06:00 local time (03:00 GMT) on 30 December 2006, the day Sunni Iraqis begin celebrating Eid al-Adha. Reports conflicted as to the exact time of the execution, with some sources reporting the time as 06:00, 06:05, or some, as late as 06:10. The execution took place at the joint Iraqi-American military base Camp Justice, located in Kazimain, a north-eastern suburb of Baghdad. Camp Justice was previously used by Saddam as his military intelligence headquarters, then known as Camp Banzai, where Iraqi civilians were taken to be tortured and executed on the same gallows.
تمہیں اللہ چاہیے؟

تمہیں اللہ چاہیے؟ اللہ کی تلاش میں ہو؟ تو اپنی انا کے پردے سے نکلو۔۔۔۔ بس اللہ کی رضا کے متلاشی ہوجاؤ۔۔۔۔۔ وہ اپنی رضا کے پردے میں ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ کی رضا میں راضی رہو۔۔۔۔۔ نہیں راضی رہا جاتا، تو راضی رہنا مانگو۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ چاہے تو ۔۔ اللہ تمہیں مِل جاۓ گا۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے تو اسکی چاہ کی طلب مل جانا بھی درپردہ اسکو پانا ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہاں ۔۔ اللہ کو حاصل، لاحاصل کی قید میں نہ رکھنا، کہ اسکی ذات ہر قید سے آزاد ہے ھمین ﷲ پر اس وقت پیار آتا ھے جب وہ ھمین مالی طور پر آسودہ کر دے اگر ایسا نہ ھو تو ھم اسے طاقتور ھی نھین سمجھتے ھم نماز کے دوران ﷲ اکبر کھتے ھین اس بات کا اعتراف کرتے ھین کی ﷲ سب سے بڑا ھے لیکن نماز کے بعد ساری چیزین بھول جاتے ھین ﷲ پر بھروسہ رکھین ﷲ کی رضا مین راضی رھین 

Body of Fir’awn



This is the body of Fir’awn (Rameses II), believed to be the Pharoah in the time of Musa (upon him be peace). His mummy is preserved and is currently on display in the Royal Mummies Chamber in Cairo Museum, Egypt.
  • Fir’awn was a mighty tyrannical ruler who greatly persecuted the Bani Israil (Children of Israel). Musa (upon him be peace) was sent to invite him towards the truth but he rejected his teachings, considering himself to be God. Musa (upon him be peace), accompanied by his brother Harun (upon him be peace) and Yusha (upon him be peace) led the Bani Israil out of Egypt, Fir’awn and his army pursued them but were drowned in the Red Sea.
  • There is great debate as to the identity of the Pharoah in the time of Musa (upon him be peace) with some identifying him as Merneptah. However, most of the evidence backed up by verses of the Holy Quran point towards him being Rameses II. The Quran and the Bible [Exodus 14:21-30 and Exodus 15:19-21] state that the Pharaoh was drowned in the sea. However, the Qur’an differs from the Bible and it makes a very unique statement that the body of the drowned Pharaoh was saved as a sign for future generations. The Quranic statement about rescuing Pharaoh’s body would be in total agreement with the fact that the body of Rameses II has survived in a mummified form. It was discovered in 1881 among a group of royal mummies that had been removed from their original tombs for fear of theft. Priests of the 21st Dynasty had reburied them in a cache at Deir al-Bahari on Luxor’s west bank. Nothing whatsoever was known at the time of the revelation of the Quran about the mummy of Rameses II.
  • With regards the end point of his life, Allah (Glorified and Exalted is He) makes mention in the Holy Quran in Surah Yunus:“We brought the tribe of Israel across the sea, and Pharaoh and his troops pursued them out of tyranny and enmity. Then, when he was on the point of drowning, he [Pharaoh] said: “I believe that there is no god but Him in Whom the tribe of Israel believes. I am one of the Muslims.” [10:90]
  • However, this last-minute conversion was not accepted, for it was not sincere. According to the Quran, Allah (Glorified and Exalted is He) further exclaimed: “What, now! When previously you rebelled and were one of the corrupters? Today we will preserve your body so you can be a Sign for people who come after you. Surely many people are heedless of Our Signs.” [10:91-92]

امام جعفرصادق 

امام جعفرصادق - سے مروی ہے کہ شب جمعہ میں محمد(ص)وآل محمد(ص) پر درود بھیجنے سے ہزار نیکیوں کا ثواب 
ملتا ہے۔ ہزار گناہ معاف ہوتے ہیں اور ہزار درجے بلند ہو جاتے ہیں۔مستحب ہے کہ جمعرات کی عصر سے روز جمعہ کے آخر تک محمد(ص)وآل محمد(ص) پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجیں اور بہ سند صحیح امام جعفرصادق -سے منقول ہے کہ جمعرات کی عصر کوملائکہ آسمان سے اترتے ہیں اور انکے ہاتھوں میں طلائی قلم اور نقرئی کا غذ ہوتا ہے اور وہ اس میں جمعرات کی عصر سے روز جمعہ کے آخر تک محمد(ص)وآل محمد(ص) پر بھیجے ہوئے درودکے سوا کچھ نہیںلکھتے۔شیخ طوسی(رح) فرماتے ہیں کہ جمعرات کے دن محمد(ص)وآل محمد(ص) پر ایک ہزار مرتبہ درود پڑھنا مستحب ہے اور بہتر ہے کہ اس طرح درود پڑھیں:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَھُمْ، وَٲَھْلِکْ عَدُوَّھُمْ مِنَ الْجِنِّ
اے معبود محمد(ص) اور اسکی آل (ع)پر رحمت فرما اوران کے ظہور میں تعجیل فرمااور محمد(ص)وآل محمد(ص) کے دشمنوں کو ہلاک کرخواہ وہ جن
وَالْاِنْسِ مِنَ الاََوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ۔ 
ہیں یاانسان اولین سے ہیںیا آخرین سے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا کردار

بچپن میں آپ کی عظمت کمال
====================
عبد الله بن مبارک کہتے ھیں: ایک سال میں مکہ گیا، حاجیوں کے ساتھ چل رھا تھا کہ اچانک ایک سات یا آٹھ سال کے بچہ کو دیکھا کہ حاجیوں کے ساتھ ساتھ چل رھا ھے اور اس کے پاس کوئی زاد راہ بھی نھیں ھے، میں اس کے پاس گیا اوراُسے سلام کیا اس کے بعد اس سے کھا: تم نے کس کے ساتھ جنگل و بیابان طے کیا ھے، اس نے کھا: خداوندمھربان کے ساتھ۔
میری نظر میں ایک بزرگ انسان معلوم هوا، میں نے کھا: اے میرے بیٹے! تمھارا زاد راہ کھاں ھے؟ اس نے کھا: میرا زاد راہ میرا تقویٰ اور میرے دو پیر ھیں اور میرا ہدف میرا مولا ھے۔
میرے نزدیک اس کی اھمیت بڑھ گئی، میں نے کھا: کس گھرانے سے تعلق رکھتے هو؟ اس نے کھا: علوی اور فاطمی، میں نے کھا: اے میرے سید و سردار! کیا کچھ اشعار بھی کھیں ھیں؟ اس نے کھا: جی ھاں، میں نے کھا اپنے کچھ اشعار سنائیے، چنانچہ اس نے اس مضمون کے اشعار پڑھے:
ھم حوض کوثر پر وارد هوں کہ ایک گروہ کو وھاں سے ہٹایا جائے گا اور ھم حوض کوثر پر وارد هونے والوں کو پانی پلائیں گے، کوئی بھی ھمارے وسیلہ کے بغیر نجات نھیں پاسکتا، اور جو شخص ھمیں دوست رکھتا هو اس نے اپنی کوشش اور زاد راہ میں نقصان نھیں اٹھایا، جو شخص ھمیں خوش کرے تو ھماری طرف سے اس کو خوشی پھنچے گی، اور جو شخص ھمیں رنجیدہ کرے اس کی ولادت بُری تھی اور جو شخص ھمارا حق غصب کرے تو اس کے عذاب کو دیکھنے کا وعدہ روز قیامت ھے!
(راوی کا کھنا ھے کہ ) اور پھر وہ میری نظروں سے غائب هوگیا یھاں تک کہ میں مکہ پھنچا اور اپنا حج تمام کیا اور واپس پلٹ گیا، مقام ”ابطح“ میں دیکھا کہ لوگ ایک جگہ جمع ھیں گردن اٹھاکر دیکھا کہ یہ لوگ کس وجہ سے جمع هوئے ھیں، دیکھا تو وھی بچہ ھے جس سے میں نے گفتگو کی تھی، میں نے سوال کیا: یہ کون ھے؟ تو مجھے بتایا گیا: یہ زین العابدین ھیں.
----------------------------
مناقب ، ج۴، ص۱۵۵؛ بحار الانوار، ج۴۶، ص۹۱، باب۵، حدیث۷۸.



Who is ZAFER JINN (r.a)......???


Jinns relations with karbala and Ahlulbayt.......The meeting of Leader of Jinnat ZAFER JINN (r.a) with the Poet of AHL-AL-BAIT (a.s)....MIR ANEES...Conversation of Zafer Jinn with IMAM HUSSAIN (a.s) in KERBALA.....and many more.....
(Beautiful & informative post, must read)

Those of you who knows Urdu must be familiar with Mir Anees. He was the greates poet in the history of Urdu language a few centuries ago. If one reads his poetry he/she feel as if Mir Anees is sitting in Karbala and writting. Here's how attained such percise knowledge.

Mir Anees used to teach in a masjid/madressa. Little children would come to his classes and learn Arabic/Quran/Deen etc. One day a young boy came to class who Mir Anees had never seen before. Some thing seemed different about him from the first moment. His homework was always perfect. The boy was very hard working and very unusual. One day as the children were studying and Mir Anees was thinking of picking a pen (or something of that sort) from a window sil. As he was thinking the same young boy stood up and grabbed it and gave it to his teacher. (Theres conflict among the story here as to what he did. Some scholars say that the boy performed some very heavy duty physical work that attarcted the attention of Mir Anees) What ever the case Mir Anees was now sure that the boy was hiding something. So when all the students were about to leave. He ordered the young boy to stay after school. When the masjid was empty and there was no one except the boy and Mir Anees. Mir Anees aske him who are you? Where are you from? You have unhaman characteristics...The boy said I am the grandson of Zafar Jinn. Thus I am a Jinn. My family has sent me to gain knowledge from you so I can recite majalis. And help my famil remember the martyrdom of Imam Husain . My grand father is the one who replied to Imam's question for help. So Mir Anees asked him about his granfather? He replied ever since the tragedy of Karbala my grand father roams in the mountains and had been crying, weeping, for he was unable to help the Imam and saw him get sluaghtered helplessly. The teacher asked his student to ask Zafer to come to the mosque. The young Boy promised him to bring his grand father at night.

Mir Anees was in the masjid alone. A candle was lighted beside him and he was waitting for Zafer jinn. Shortly a shadow appeared in the court yard of the mosque. And soon he saw a very old person entering. He was so old that his eye browse were hanging and blocking his eyes. THey exchanged greetings and Mir Anees asked him to tell the sotry of Karbala from the start.

There is a battle known as the Battle of Bair-Al-Alam. In which Imam Ali fought the Jinns in a deep well to get water. In it thousands of Jinns were killed and many more turned muslims. The evil leader was also killed. I Zafer was chosen the new muslim leader of these Muslim Jinns.

Zafer Jinn was in Karbala.........

When Imam Hussein(as) was alone in the plain of Karbala..after all his Children, brother, nephew and friends were martryed ..he said this famous line "Hal Min Nasirin Yansurna" (Is there among you a friend to help us)..not only once but he said it to 4 corner of the world.

When Imam Zayn Al Abidin(as) heard his father, he quicky raised himself from his bed and said "Labbayk Ya Imam" ( I am comming O Imam, I am coming)..but he was too sick and weak, and Sayyida Zaynab(as) went and urge him to lie back on bed.

The enemies was firm to kill him. No one answered his plea.

and the narations continue with this ..

"When all the angels from heaven heard Master of Paradise, they beg permission from Almighty God to help him. Rows and rows of angels came to help him, just like when His Grandfather Holy Prophet(saw) prayed in Badr. A group of Jinn also heard this plea and they proceed to Karbala. They came and all of them stand to help the Imam"

An army of mankind had surrounded a tent. A lone Man (Imam hussain) stood in the middle giving speeches. They realized who it(as) was and quickly went to Jafar Jinn(ra).

Zafar jinn (ra) sat on his throne, the jinns alerted him, he took off his ornaments and said:

Get ready, we must reach my beloved Master(as). Oh Allah(swt) please ensure that we arrive in time. Take our swords and let us make haste!!!

The army approached the Euphrates and Zafar(ra) said:

With care, this is the body of My Master Ali(sa) son. Oh tragedy, what has befallen the kindred of Ali(sa)?

Then Jafar(ra) saw the Prophets(as)/Messengers(sa), Imams(sa) and close ones of Allah(swt). He saw Imam Hussain(sa) and had a lengthy conversation(Not going to say what). Jafar(ra) was taken with rage and told his army to attack the evil force.

The Imam(sa) stopped them and said: I have the power but this is the time of test. Jafar(ra), my Father(as)'s companion, it is unfair that you fight them whilst they can't see you. They are my Grandfathers(saws) ummah. Then Jafar(ra) went back having been ordered to do mourning and Majlis.

Jafar(ra) went back, put black in his kingdom and cried. His Mother found out and asked what had happened. She sent him back and told him to help the children in the route of Sham. Then he was sent away because Hazrat Syeda Fatima Al-Zahra(sa) was to come to be the companion of the ladies of Ahlulbayt (as) .....

SYED SHADMAN RAZA NAQVI NOHAY 2014

SYED SHADMAN RAZA NAQVI ALBUM 2013-2014 AVAILABLE FOR DOWNLOAD


   


                                                   





دعبل خزاعی نے امام _رضا علیہ السلام کی شہادت پر جو مرثیہ کہا اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ 

علی ابن _موسیٰ رضا کی موت کی بنا پر الله تعالیٰ ان لوگوں سے سخت ناراض ہے

ان آنکھوں کو کیا ہو گیا ہے کہ آنسو بہا رہی ہیں - اگر یہ اپنی تمام آنسوؤں کی رگوں کو نچوڑ دیں تب بھی آنسو کم پڑ جائیں گے -

اس ذات پر رونا آسان نہیں جس پر زمین روئی - اور جس کی موت کی خبر سن کر بلند پہاڑوں کی چوٹیوں نے " انا للہ و انا الیہ راجعون " کہا اور سر نگوں ہو گئیں -

ان کی جدائی پر آسمان رو رہا ہے - ستارے نوحہ و ماتم کر رہے ہیں - ان کی روشنی مدھم پڑ گئی ہے - پھر تو ہمیں ان پر بہت زیادہ رونا چاہیے - اس لئے کہ یہ مصیبت ہمارے لئے ایک عظیم صدمہ ہے -

{ بحار الانوار، جلد _4 / 5 ، صفحہ _317 }

سوال


والدین کی اطاعت کس حد تک واجب ہے؟






جواب


اولاد پر والدین کی دو طرح سے اطاعت واجب ہے



۱۔ اگر وہ غریب ہوں تو ان سے نیک سلوک اور انفاق کرنا، ان کی ضروریات زندگی اور جایز خواہشات کو ایک عام اور فطری زندگی کے تقاضوں کے مطابق پورا کرنا ہے اور ان وظیفوں کا انجام نہ دینا احسان فراموشی ہے۔



اور یہ احسان کرنا ان کے حالات، آرام اور سختی، طاقت اور کمزوری کے پیش نظر مختلف طرح سے ہو سکتا ہے۔



۲۔ عمل اور زبان سے نیک سلوک کرنا ، عمل اور زبان سے بدتمیزی نہ کرنا اگر چہ اس پر ظلم کیا ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر ماں باپ اولاد کو ماریں تب بہی ان سے بد تمیزی سے پیش نہ آئیں بلکہ یہ کہیں کہ خدا تم کو معاف کرے۔



یہ دونوں وظیفہ اولاد کے لیے ہے۔ جبکہ والدین کی ذمہ داری بھی اولاد کے لیے دو طرح کی ہے:


۱۔ ماں باپ کو تکلیف اس لیے ہوتی ہے کہ وہ اولاد کا بھلا چاہتے ہیں اور جو کام وہ انجام دیتے ہیں اگر چہ اس کا ان سے کوئی ربط نہ بھی ہو انہیں تکلیف پہچتی ہے، اولاد کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے انہیں اذیت ہو چاہے وہ اسے منع کریں یا نہ کریں۔

۲۔ ماں پاب کو اس لیے تکلیف ہوتی ہو کہ ان میں کچھ بری عادتیں پائی جاتی ہوں جو انہیں پسند نہ ہوں کہ ان کے بچے دنیا کے لیے خیرخواہ ہوں اگر والدین کو بچوں کے ایسے کاموں سے اذیت ہو تو بچوں پر اس کا اثر نہیں پڑے گا اور بچوں پر ان کی اس طرح کی توقعات کو پورا کرنا واجب نہیں ہے اور یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین اگر برے کاموں کی طرف حکم کریں یا اچھے کاموں سے منع کریں تو ان کی اطاعت واجب نہیں ہے.۔

(Ayatullah aqeel Gurvi )


HASHIM SISTER NOHA ALBUM 2013-2014 NOW AVAILABLE
(DOWNLOAD LINKS TAKEN FROM MINE FRIEND WEBSITE DUE TO IN SHORT OF TIME)



Zeyarat e Zainb as (DOWNLOAD)


Ya Hussain as(DOWNLOAD)


Qabre Asghar as(DOWNLOAD)


Ali Asghar as(DOWNLOAD)


Varen May Shaam(DOWNLOAD)


Zainab sa ( english)(DOWNLOAD)


Agay Yahe Ahlay Haram(DOWNLOAD)


Ghazi as Ka Sar(DOWNLOAD)


Hay Hay Javan(DOWNLOAD)


Do Behnay(DOWNLOAD)


ALI HAIDER ALBUM 2013-2014 NOW AVAILABE



SALAM (DOWNLOAD)

CHARAGY TOUR(DOWNLOAD)

DAR-E-ABBAS(DOWNLOAD)

FAIZ-E-MASHIYAT(DOWNLOAD)

JA-NISARO NY YU GHUZARI RAT(DOWNLOAD)

NAMAZY ISHQ(DOWNLOAD)

KARBALA TUJ KO(DOWNLOAD)


.

SYED RAZA ALI RIZVI ALBUM 2013-2014  
TRACKS AVAILABLE FOR DOWNLOAD



LABBAIK YA HUSSAIN


NA RO BABA


SAKINA (S.A) PANI


MANGDI SHIMER


ZINDAN MAIN TERASTI RAHI


AEY KHUDA


GOONJTI HAI YEH SADA


ASGAR TERE SAWAL KA



ALAMDAR CHALA