Oh Allah, I have no money, but I have You. I am rich.


Oh Allah, I have no money, but I have You. I am rich.
Oh Allah, I have no freedom, but I believe in You. I am free.
Oh Allah, I have no patience, but I read Your Quran. I am calm.
Oh Allah, I get no respect, but You listen to my dua. I am proud.
Oh Allah, I have no time, but I think of Jannah. I have forever.
Oh Allah, make "la ilaha illAllah" my last words in this life



I want A Husband/Wife who will get mad at Me when I miss a Prayer....
I want A Husband/Wife who will pour cold water on Me when I don't get up for Fajar Salah....
I want A Husband/Wife who will draw Me closer to Allah, who will get upset when I lie, cheat and do bad things and anything wrong...
I want A Husband/Wife who will call Me after every Maghrib Salah to read Qur'an together...
I want A Husband/Wife who will make Me up in the middle of the right for us to Pray together and ask Forgiveness from Allah.♥♥♥


قرآنِ کریم میں "حجاب" سے متعلق آیا



 قرآنِ کریم میں "حجاب" سے متعلق آیات

حجاب کی تاریخ اور اس کے مقصد سے قطعِ نظر موجودہ زمانے میں حجاب کے اصولوں کو اسلامی شریعت میں ایک قانونی شکل دے دی گئی ہے اور اِس سلسلے میں قرآنِ کریم کی چند آیات کو بنیاد بنا کر حجاب کو خواتین پر مسلّط کیا گیا ہے اور وہ آیات یہ ہیں: سورہَ نور کی آیات ۳۰/ اور۳۱/ اور سورہَ احزاب کی آیات ۵۸/ اور۵۹۔ 

 قرآنِ کریم میں "حجاب" سے متعلق آیات
(سورہَ نور:۲۴، آیات ۳۰/اور۳۱)
قرآنِ کریم عفّت اور پاک دامنی کے حوالے سے اپنا واضح اصول سورہَ نور:۲۴، کی آیات ۳۰/ اور ۳۱/ میں بیان کرتا ہے ۔ یہ اصول مرد و زن، دونوں کے لیے یکساں ہے ۔
"مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم و حیا کی حفاظت کیا کریں، یہ اُن کے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے؛ اور جو کام یہ کرتے ہیں، بے شک اللہ اُن سے باخبر ہے ۔" (قرآنِ کریم، سورۂ نور:۲۴، آیت۳۰)
"اورمومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم و حیا کی حفاطت کیا کریں اوراپنی آرائش کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں، مگر جو خود نمایاں ہو رہا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے شوہر اور باپ اور سُسر اور بیٹوں اور شوہر کے بیٹوں، اور اپنے بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی ہی قسم کی عورتوں اور کنیزوں اور غلاموں، نیز اُن خدّام کے سوا جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں، یا ایسے لڑکوں کے سوا، جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں، کسی اَور پر اپنی زینت اور آرائش کو ظاہر نہ ہونے دیں ۔ اور اپنے پاؤں کو زمین پر اِس طرح نہ ماریں کہ ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے ۔ اے مومنو! تم سب اللہ کے آگے توبہ کرو، تاکہ فلاح پاؤ۔" (قرآن کریم، سورۂٔ نور:۲۴، آیت ۳۱)
مندرجۂ بالا آیات کے مطابق مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ عفّت اور پاک دامنی اختیار کریں ۔ اپنی نگاہوں اور اعمال کا خیال رکھیں ۔ عورتوں کے لباس میں صرف سینوں کو چھپانے کی تاکید کی گئی ہے ۔ قرآنِ کریم نے اس بارے میں جزئیات بیان نہیں کی ہیں اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایسا نہ کرنے میں کوئی سزا بھی مقرّر نہیں کی ہے ۔
ممتاز محققین میں سے ایک اہم محقق محمد اسد نے سورہَ نور:۲۴، آیت ۳۱/ کی تفسیر یوں کی ہے: 1
"لفظ 'خیمار،' جس کی جمع 'خمور' ہے، اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ لفظ سر کی اوڑھنی کے معنوں میں ہے جو ظہورِ اسلام سے قبل اور بعد عرب خواتین میں زینت و آرائش کے لیے استعمال ہوتی تھی، حجاب کے لیے نہیں ۔ اکثر قدیم مفسرین کے خیال میں 'خیمار' اسلام سے قبل صرف آرائش کی چیز تھی۔ عورتیں اسے سر پر رکھ کر فیشن اور رسم کے مطابق پیچھے کی طرف ڈال دیا کرتی تھیں ۔ اُس زمانے میں عام طورپرعورتوں کی قمیض کا گلا سامنے سے کھلا ہوتا تھا، لہٰذا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ عورتیں 'خیمار' کے ذریعے اسے ڈھانپ لیں ۔ یہ لفظ 'خیمار' حضورِ اکرم (ص) کے زمانے میں خاصا جانا پہچانا اور مروّج تھا، مگر اوپر کی آیت کے ایک حصّے کے مطابق جس میں یہ حکم آیا کہ: "مگر وہ جو خود نمایاں ہوجائے،" تو یہ حکم سینے کے بارے میں نہیں تھا۔ سینے کا ڈھانپنا تو لازم قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ سینہ چھپایا جائے اور اُسے نمایاں نہ کیا جائے، مگر سر چھپانے پر مجبور نہیں کیا گیا ہے ۔ حجاب کے معاملے میں مومنِ صادق کا وجدان خود فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے، کیوں کہ پیغمبرِ اکرم (ص) سے ایک حدیث منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: "صحیح فیصلہ کرنے کے لیے اپنے وجدان اور ضمیر سے رجوع کرو، اس میں جس کسی چیز سے بھی اذیّت پہنچے، اس سے دوری اختیار کرو۔"
٢- سورہَ احزاب: ۳۳، آیات ۵۸اور ۵۹
ایک اور آیت خواتین کے لباس کے متعلٰق سورہَ احزاب کی آیت نمبر ۵۹ہے ۔
"اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت) سے، جو انھوں نے نہ کیا ہو، ایذا دیں تو انھوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔" (قرآنِ کریم، سورۂ احزاب:۳۳، آیت۵۸)
اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادر کے پلّو لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اور اللّہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔" (قرآنِ کریم، سورۂ احزاب:۳۳، آیت۵۹)
مندرجۂ بالا آیات کے مطابق اُس زمانے میں مسلمان مرد اور خواتین، دونوں کو آزار و اذیّت دینا عام تھا، اِس لیے اذیّت سے بچنے کے لیے انھیں گھر سے باہر نکلتے وقت بیرونی چادر (جَلَابِيبِ ) اوڑھنی پڑتی تھی۔ لہٰذا اس آیت سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ عورتوں کو چادر پہنا کر گھر میں قید کر لیا جائے، بلکہ انھیں آزار و اذیّت سے بچانا مطلوب تھا۔ ایسے معاشروں میں، جہاں مسلمان خواتین کے لیے ایسا کوئی خوف نہ ہو تو اُن کے لیے کسی بیرونی چادر کو اوڑھنا ضروری نہیں، کیوں کہ صرف ایک ایسے کپڑے کو پہننا کوئی معنی نہیں رکھتا جو اِس حکمِِ قرآنی کے حقیقی اصول پر پورا نہیں اترتا۔ 2
یہ بات مسلّم ہے کہ مختلف معاشرے قرآن کے حقیقی پیغام کو قبول کرنے کے بجاے اپنی قومی اور ثقافتی رسم پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور نتیجے کے طور پر حجاب کے سطحی ترین معنی میں کپڑے کے ایک ٹکڑے کو عورتوں کے لباس کا حصّہ قرار دیتے ہیں اور حجاب کے وسیع اور جامع معنی پر کبھی توجّہ نہیں دیتے ۔
نذیرہ زین الدّین کہتی ہیں: انسان کے اخلاقی پہلو، نجابت اور وجدانِِ صادق، اس کے ظاہری حجاب سے بدرجہا بہتر ہیں ۔ حجابِ ظاہری کا کوئی حاصل نہیں، بلکہ ہر شخص کی ذات میں موجود پاکیزگی اور دانش مندی ہی کار آمد ہے ۔ نذیرہ اپنی کتاب کے ایک حصّے "السّفور والحجاب" کو اس نتیجے پر ختم کرتی ہیں کہ یہ کوئی اسلامی فریضہ نہیں کہ مسلمان خواتین اپنے سر کو ڈھانپیں ۔ اگر اسلامی قانون کے وضع کرنے والوں نے یہ تہیّہ کر رکھا ہے کہ حجاب مسلمان خواتین کے لیے لازم ہے تو انھوں نے غلط سمجھا ہے ۔ 3
بعض ممالک میں آج کے دور میں حجاب اپنے سیاسی عقیدے کے اظہار کے طور پر بیرونی طاقتوں کے دباو سے آزادی حاصل کرنے اور ان کے تسلّط سے جان چھڑانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
بہ ہرحال، وجہیں جو بھی ہوں اور جو بھی نظریات اور دلیلیں پیش کی جائیں، خواتین کے لیے چہرہ اور سر چھپانے کے لیے قرآنِ کریم میں کوئی ایسا دستورالعمل موجود نہیں ۔
.......

.


حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا 


" بد بخت ترین شخص وہ ہے جس کے علم کی لوگوں میں شہرت ھو لیکن اسکے عمل کا کسی کو علم نہ ھو "



[ بحارالانوار، جلد_2، صفحہ_52 ]

حرم حضرت سکینہ(س) کا دفاع کرتے ہوئے عیسائی جوان شہید


دمشق کا عیسائی جوان جو داریا میں حرم حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کے دفاع میں شامی مسلمان بھائیوں کے ہمراہ دھشتگردوں کے ساتھ بر سر پیکار تھا شہید ہو گیا۔ 



اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دمشق کے مضافات میں واقع گاوں ’’صیدنایا‘‘ کا رہنے والا ’’ دانی جورج حجا‘‘ عیسائی جوان جو داریا میں حرم حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کے دفاع میں شامی مسلمان بھائیوں کے ہمراہ دھشتگردوں کے ساتھ بر سر پیکار تھا شہید ہو گیا۔


دانی جورج حجا جو ’’ابوعرب‘‘ کے نام سے معروف تھے حرم حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کے دفاع کرتے ہوئے دھشتگردوں کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہو گئے۔

اس عیسائی جوان کا جسد خاکی اس علاقے کے مسلمان اور عیسائی ہم وطنوں نے ’’ باب توما‘‘ کے علاقے میں تشییع کر کے دفن کر دیا۔


بحرین کے ایک انقلابی رہنما کو زندہ جلا دیا گیا


اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے شہر ’’سار‘‘ میں گزشتہ روز آل خلیفہ کے سیکیورٹی دستوں نے اس علاقے کے ساکن افراد کے گھروں پر حملہ کر کے انقلاب بحرین کے فیلڈ کمانڈر حسین عبد اللہ عبد الکریم کو انتہائی دردی سے شہید کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق اس ۳۵ سالہ جوان کی شہادت اس وقت ہوئی جب آل خلیفہ کے مزدوروں نے شہر سار میں ان کے گھر پر حملہ کیا اور انہیں شدید ضرب و شتم کا نشانہ بنانے کے بعد احتراقی مواد سے جلا دیا گیا۔
واضح رہے کہ شہر سار کے لوگوں نے گزشتہ روز حکومت کے خلاف مظاہرہ کر کے حکومتی عہدہ داروں سے عدل و انصاف کے قیام اور آل خلیفہ حکوت کی سرنگونی کا مطالبہ کیا ہے۔
عبد الکریم کی شہادت کے ساتھ انقلاب کرامت کے شہداء کی تعداد ۱۰۸ ہو گئی ہے۔ 


طالبان نے شیعہ ہونے کی وجہ سے مار دیا


ابنا: غیر ملکیوں کے ساتھ موجود پانچ مقامی افراد میں سے علی حسین واحد پاکستانی تھے جنہیں دہشت گردوں نے ہلاک کیا جبکہ سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے باقی چار افراد کو چھوڑ دیا۔

اٹھائیس سالہ علی حسین کے خاندان کے افراد اور دوستوں کہنا ہے کہ وہ مصروف زندگی گزارتے تھے۔ نانگا پربت اور اس کے اطراف میں کوہ پیمائی کے لیے آنے والوں کے ساتھ کبھی کھبار وہ بحیثیت قلی اور باورچی کام کرتے تھے۔ اتوار کی شب گلگت بلتستان کے علاقے سکردو کے گاؤں میں اُن کی میت پہنچی۔ رشتے داروں کا کہنا ہے کہ علی حسین کے سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔علی حسین کے ایک رشتہ دار علی خان کے مطابق علی حسین کی موت سے اُن کا خاندان تباہ ہو گیا ہے۔ ’وہ محنتی تھا۔اچھے پیسے کماتا تھا اور کامیاب تھا۔‘

علی حسن نے پاکستان کے شمالی علاقے کے مزدوروں کے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے لگے۔ وہ سردیوں میں پنجاب کے علاقے میں کھانا پکانے کا کام کرتے اور موسم گرما میں گلگت بلتستان کے علاقے میں 40 دن کوہ پیمائی کے موسم میں بلندیوں تک سامان لے کر جاتے۔

علی حسین کے والدین نے بہت کم عرصے اُن کے تعلیمی اخراجات برداشت کیے۔ انھیں کھیتوں میں والدین کے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لیے سکول کو چھوڑنا پڑا۔ لیکن علی حسین نے اپنے پانچ سال کے عمر کے لڑکے کو انگلش میڈیم سکول میں تعلیم دلوانے کے لیے سخت محنت کر رہے تھے۔

علی حسین نے اپنے پسماندگان میں بیوی سمیت، بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ اُن کی سب سے چھوٹی بیٹی صرف آٹھ ماہ کی ہے۔

 اطلاعات کے مطابق مقامی سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس مسلح حملہ آواروں کی تعداد کم از کم پندرہ تھی۔ دہشت گردی کا یہ واقع 4200 میٹر کی بلندی پر ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آور اٹھارہ گھنٹے پیدل یا خچر پر سفر کر کے اس مقام پر پہنچے تھے۔
.....




                                     ملک اسحاق کا ایک چہرہ اور ؛ نیز آل سعود اور یہود کی یکجہتی

ارادہ یہ ہے کہ اس تصویر کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے کیونکہ یہ تصویر خود بول رہی ہے بہت کچھ ہاں مگر اتنا بولنے دیا جائے کہ یہ تصویر حال ہی میں خادم الحرمین الشریفین کے سائے تلے دہشت گردوں کو سہولیات فراہم کرنے والے کسی ادارے کے اندر لی گئی ہے اس تصویر میں 154 کے قریب پاکستانیوں کے قتل میں ملوث مگر آزاد دہشت گرد ملک اسحاق کو ایک بے حجاب لڑکی کے ساتھ دکھایا گیا تو جو خادم الحرمین کے ماتحتوں نے انہيں فراہم کی تھی۔ یہ ہے دین کا دعوی کرکے انسانوں کا خون بہانے والے مہمانوں کا حال اور یہ ہے دین کی پیشوائی کے دعویدار میزبانوں کی صورت حال۔ دیکھئے




یہ تصویر آل سعود اور آل یہود کی یکجہتی کا ثبوت ہے گوکہ ان دو کی یکجہتی سیاسی حوالے سے مزید کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی؛ دیکھئے








                            عورت جناب زہراء (س) كى نظر ميں


 عورت جناب زہراء (س) كى نظر ميں
على ابن ابى طالب (ع) فرماتے ہيں كہ ميں ايك دن ايك جماعت كے ساتھ جناب رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى خدمت ميں بيٹھا ہوا تھا آپ نے اپنے اصحاب سے فرمايا كہ عورت كى مصلحت كس ميں ہے؟ آپ كو كوئي صحيح جواب نہ دے سكا، جب اصحاب چلے گئے اور ميں بھى گھر گيا تو ميں نے پيغمبر(ص) كے سوال كو جناب فاطمہ (س) كے سامنے پيش كيا_ جناب فاطمہ (س) نے فرمايا كہ ميں اس كا جواب جانتى ہوں، عورت كى مصلحت اس ميں ہے كہ وہ اجنبى مرد كو نہ ديكھے اور اسے اجنبى مرد نہ ديكھے_ ميں جب جناب رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى خدمت ميں حاضر ہوا تو ميں نے عرض كى كہ آپ كے سوال كے جواب ميں جناب فاطمہ (س) نے يہ فرمايا ہے_ پيغمبر(ص) نے آپ كے اس جواب سے تعجب كيا اور فرمايا كہ فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے(2)_
اس ميں كوئي شك نہيں كہ دين مقدس اسلام نے عورتوں كى ترقى اور پيشرفت كے لئے بلند قدم اٹھائے ہيں اور ان كے حقوق كو پورا كرنے كے لئے ان كے لئے عادلانہ قوانين اور احكام وضع كئے ہيں، اسلام نے عورت كو علم حاصل كرنے كى آزادى دے ركھى ہے اس كے مال اور كام كا محترم قرار ديا ہے، اجتماعى قوانين وضع كرتے وقت عورتوں كے واقعى منافع اورمصالح كى پورى طرح مراعات كى ہے_
ليكن يہ بات قابل بحث ہے كہ آيا عورت كى مصلحت اجتماع اورمعاشرے ميں اجنبى مردوں كے ساتھ مخلوط رہنے ميں ہے يا عورت كى مصلحت اس ميں ہے كہ وہ بھى مردوں كى طرح عمومى مجالس اورمحافل ميں بيگانوں كے ساتھ گھل مل كر پھرتى رہے؟ كيا يہ مطلب واقعاً عورتوں كے فائدے ميں ہے كہ وہ زينت كر كے بغير كسى بند و بار كے مردوں كى مجالس ميں شريك ہو اور اپنے آپ كو انظار عمومى ميں قرار دے؟ كيا يہ عورتوں كے لئے مصلحت ہے كہ وہ بيگانوں كے لئے آنكھ مچولى كرنے كا موقع فراہم كرنے اور مردوں كے لئے امكانات فراہم كرے كہ وہ اس سے ديدنى لذت اورمفت كى لذت حاصل كرتے رہيں؟ كيا يہ عورتوں كى منفعت ميں ہے كہ كسى پابندى كو اپنے لئے جائز قرار نہ ديں اور پورى طرح اجنبى مردوں كے ساتھ گھل مل كر رہيں اور آزادانہ طور سے ايك دوسرے كو ديكھيں؟ كيا عورتوں كى مصلحت اسى ميں ہے كہ وہ گھر سے اس طرح نكلے كہ اس كاتعاقب اجنبى لوگوں كى نگاہيں كر رہى ہوں_
يا نہ بلكہ عورتوں كى مصلحت معاشرے ميں اس ميں ہے كہ اپنے آپ كو مستور كر كے سادہ طريقے سے گھر سے باہر آئيں اور اجنبى مردوں كے لئے زينت ظاہر نہ كريں نہ خود بيگانوں كوديكھيں اور نہ كوئي بيگانہ انہيں ديكھے_
آيا پہلى كيفيت ميں تمام عورتوں كى مصلحت ہے اور وہ ان كے منافع كو بہتر طور پرمحفوظ كرسكتى ہے يا دوسرى كيفيت ميں؟ آيا پہلى كيفيت عورتوں كى روح اور ترقى اور پيشرفت كے بہتر اسباب فراہم كرسكتى ہے يا دوسرى كيفيت ؟ پيغمبر اسلام(ص) نے اس مہم اوراجتماع اور معاشرے كے اساسى مسئلہ كواپنے اصحاب كے افكار عمومى كے سامنے پيش كيااور ان كى اس ميں رائے طلب كى ليكن اصحاب ميں سے كوئي بھى اس كا پسنديدہ جواب نہ دے سكا، جواب اس كى اطلاع حضرت زہراء (س) كو ئي تو آپ نے اس مشكل موضوع ميں اس طرح اپنا نظريہ بيان كيا كہ عورتوں كى معاشرے ميں مصلحت اس ميں ہے كہ نہ وہ اجنبى مردوں كو ديكھيں اور نہ اجنبى مرد انہيں ديكھيں_ وہ زہراء (س) جو وحى اور ولايت كے گھر ميں تربيت پاچكى تھى اس كا اتنا ٹھوس اور قيمتى جواب ديا اوراجتماعى موضوع ميں سے ايك حساس اور مہم موضوع ميں اپنے نظريئے اورعقيدے كااظہار كيا كہ جس سے رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے تعجب كيا اور فرمايا كہ فاطمہ (س) ميرے جسم كاٹكڑا ہے_
اگر انسان اپنے ناپختہ احساسات كو دور ركھ كر غير جانبدارانہ اس مسئلے ميں سوچے اور اس كے نتائج اور عواقب پر خوب غور اور فكر كرے تو اس بات كى تصديق كرے گا كہ جو جواب جناب فاطمہ (س) نے ديا ہے وہ بہترين دستورالعمل ہوسكتا ہے جو عورتوں كے منافع كا ضامن ہو_ اور اس كے مقام اور رتبے كو معاشرے ميں محفوظ كردے گا كيونكہ اگر عورتيں گھر سے اس طرح نكليں اور اجنبيوں كے ساتھ اس طرح ميل جول ركھيں كہ مرد ان سے ہر قسم كى تمتعات حاصل كرسكيں اور عورتيں ہر جگہ مردوں كے لئے آنكھ مچولى كے اسباب فراہم كريں تو پھر جوان دير سے شادى كريں گے اور وہ زندگى اور ازدواج كے زيربار نہيں ہوں گے، ہر روز لڑكيوں اور عورتوں كى تعداد ميں جو بے شوہر ہوں گى اضافہ ہوتا جائے گا اور يہ علاوہ ازين كہ معاشرے كے لئے مضر ہے اور ماں، باپ كے لئے مشكلات اور محذورات كا موجب ہے خود عام عورتوں كے اجتماع كے لئے بھى موجب ضرر ہوگا، اور اگرعورتيں اپنى خوبصورتى كو تمام نگاہوں كے لئے عام قرار دے ديں اور اجنبيوں ميں دلربائي كرتى رہيں تو ايك بہت بڑے گروہ كا دل اپنے ساتھ لئے پھريں گى اور چونكہ مرد محروميت سے دوچار ہوں گے اوران تك دست رسى اور وصال بغير قيد اور شرط كے حاصل نہ كرسگيں گے قہراً ان ميں نفسياتى بيمارياں اور ضعف اعصاب اورخودكشى اور زندگى سے مايوسى عام ہوجائے گي_
اس كا نتيجہ بلاواسطہ خود عورتوں كى طرف لوٹے گا، يہى عام لطف نگاہ ہے كہ بعض مرد مختلف قسم كے حيلے اور فريب كرتے ہيں اورمعصوم اور سادہ لوح لڑكيوں كو دھوكا ديتے ہيں اور ان كى عفت و آبرو كے سرمايہ كو برباد كرديتے ہيں اور انہيں فساد اور بدبختى اورتباہى كى وادى ميں ڈھكيل ديتے ہيں_
جب شوہردار عورت ديكھے كہ اس كا شوہر دوسرى عورتوں كے ساتھ آتا جاتا ہے، اورعمومى مجالس اورمحافل ميں ان سے ارتباط ركھتا ہے توغالباً عورت كى غيرت كى حس اسے اكساتى ہے كہ اس ميں بدگمانى اور سو ظن پيدا
ہوجائے اور وہ بات بات پراعتراض شروع كردے، بے جہت باصفا اور گرم زندگى كو سرد اور متزلزل بنا كر ركھ دے گى اور نتيجہ،جدائي اور طلاق كى صورت بس ظاہر ہوگا يا اسى ناگوار حالت ميں گھر كے سخت قيدخانے ميں زندگى گزارتے رہے گى اور قيد خانے كى مدت كے خاتمہ كا انتظار كرنے ميں زندگى كے دن شمار كرتى رہے گى اورمياں، بيوى دو سپاہيوں كى طرح ايك دوسرے كى مراقبت ميں لگے رہيں گے_
اگر مرد اجنبى عورتوں كو آزاد نہ ديكھ سكتا ہو تو قہراً ان ميں ايسى عورتيں ديكھ لے گا جو اس كى بيوى سے خوبصورت اور جاذب نظر ہوں گى اور بسا اوقات زبان كے زخم اورسرزنش سے اپنى بيوى كے لئے ناراحتى كے اسباب فراہم كرے گا اور مختلف اعتراضات اور بہانوں سے باصفا اور گرم زندگى كوجلانے والى جہنم ميں تبديل كردے گا_
جس مرد كوآزاد فكرى سے كسب و كار اور اقتصادى فعاليت ميںمشغول ہونا چاہيئے،جب آنے جانے ميں يا كام كى جگہ نيم عرباں اور آرائشے كى ہوئي عورتوں سے ملے گا تو قہراً غريزہ جنسى سے مغلوب ہوجائے گا اور اپنے دل كو كسى دل رباء كے سپرد كردے گا، ايسا آدمى كبھى آزاد فكرى سب كسب و كار ميں يا تحصيل علم ميں مشغول نہيں ہوسكتا اور اقتصادى فعاليت ميں پيچھے رہ جائے گا اس قسم كے ضرر ميں خود عورتيں بھى شريك ہوں گي_ اور يہ ضرر ان پر بھى وارد ہوگا_
اگر عورت پردہ نشين ہو تو وہ اپنى قدر اور قيمت كو بہتر مرد كے دل ميں جاگزين كرسكتى ہے اور عورتوں كے عمومى منافع كو معاشرے ميں حفظ كرسكتى ہے اور اجتماعى كے نفع كے لئے قدم اٹھاسكتى ہے_

اسلام چونكہ عورت كو اجتماع اور معاشرے كا ايك اہم جز و جانتا

ہے اور اس كى رفتار اور سلوك كومعاشرے ميں موثر جانتا ہے، لہذا اس سے يہ بڑا وظيفہ طلب كيا گيا ہے كہ وہ پردے كے ذريعے فساد اور انحراف كے عوامل سے جلوگيرى كرے اورملت كى ترقى اورعمومى صحت اور بہداشت كو برقرار ركھنے ميں مدد كرے_ اس لئے اسلام كى نمونہ اور مثالى خاتون نے جو وحى كے گھر كى تربيت يافتہ تھي، عورتوں كے معاشرے كے متعلق اس قسم كے عقيدہ كا اظہار كيا ہے كہ عورتوں كى مصلحت اس ميں ہے كہ وہ اس طرح سے زندگى بسر كريں كہ نہ انہيں اجنبى مرد ديكھ سكيں اور نہ وہ اجنبى مردوں كو ديكھ سكيں_
.......
مصر میں انتہائی بے دردی سے ایک عالم دین سمیت چار شیعہ 


افراد کی شہادت


مصر کے دار الحکومت قاہرہ کے مضافات میں واقع جیزہ کے علاقے میں گزشتہ روز ولادت امام زمانہ(ع) کی مناسبت سے منعقدہ 
پروگرام پر تکفیری وہابیوں نے حملہ کر کے ایک عالم دین سمیت چار شیعہ افراد کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا ہے



اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  مصر کے دار الحکومت قاہرہ کے مضافات میں واقع جیزہ کے علاقے میں گزشتہ روز تکفیری سلفیوں نے ولادت امام زمانہ (ع) کی مناسبت سے منعقد پروگرام پر حملہ کر کے ایک عالم دین سمیت ۴ افراد کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جیزہ کے دیہات ابومسلم میں مقامی شیعوں کے چند افراد ولادت امام زمانہ (ع) کی مناسبت سے پروگرام منعقد کرنے کے لیے ایک میٹنگ کی غرض سے شیعہ رہنما شیخ حسن شحاتہ کے گھر جمع تھے کہ علاقے کے بعض افراطی تکفیریوں نے گھر کو محاصرے میں لے لیا اور دھمکیاں دے کر گھر میں موجود افراد کے باہر نکلنے پر اصرار کیا جبکہ گھر میں موجود افراد کے باہر نکلنے سے انکار پر تکفیریوں نے درندوں کی طرح ان پر دھاوا بول دیا۔ اورعالم دین شیخ حسن شحاتہ اور ان کے بھائی سمیت ۴ افراد کو شدت سے مار پیٹ کر شہید کر دیا۔ حملہ آوروں نے گھر کے ساز و سامان کو بھی توڑ پھوڑ کر گھر کو آگ لگا دی۔
مصری ذرائع کے مطابق تکفیریوں نے پتھروں سے اس عالم دین سر کو پس ڈالا اور بدن سے کپڑے پھاڑ کر برہنا سڑکوں پو گھسیٹے ہوئے یہ کہ رہے تھے کہ شیعوں کو نابود کرو، شیعہ کافر ہیں۔


مصر کے سرکاری اخبار الاھرام نے رپورٹ دی ہے کہ اس حادثہ کے فورا بعد ۴ شیعوں کو ہسپتال میں منتقل کیا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ چکے تھے۔
حزب الدستور کے سربراہ محمد البرادعی نے تاکید کی ہے کہ گزشتہ روز ابومسلم دیہات میں ۴ شیعوں کا بیہمانہ قتل بعض افراطی ملاوں کی فتنہ انگیز تقریروں اور ان کے جاہلانہ فتووں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا: اس سے پہلے کہ ہم اپنی باقی ماندہ انسانیت کو بھی کھو دیں حکومت اور الازھر اس طرح کے اقدامات کا سد باب کرنے کے لیے فورا کوئی راستہ تلاش کرے۔
آل البیت تنظیم کے بانی محمد الدرینی نے کہا ہے کہ یہ حادثہ مصر میں فرقہ وارانہ فساد کا آغاز ہے۔
واضح رہے کہ محمد مرسی کے شام کے ساتھ تعلقات ختم کرنے اور اخوان المسلمین کی طرف سے شام میں حکومت کے خلاف جہاد کی دعوت دئے جانے کے بعد مصر میں فرقہ وارانہ فساد کا سخت خطرہ پایا جاتا ہے۔







Karbala Jannato Ki Jannat Hai


Karbala Nasib Se Jana Nasib Ho
Pher Laut Kar Wahan Sa Na Ana Nasib Ho
Aisa DAR-E-HUSSAIN (A.S) Pe Sajda Ho Akhri
K Mujha Apna Sir Na Uthana Nasib Ho



اے علئ کے چاهنے والوں اٹھو

اے علئ کے چاهنے والوں اٹھو علم حق لے کر اب اسلام کو بچانا هے. کب تک هم مرتے رهیں گے مساجد اور مجالس میں اب وقت هے ان بے دینوں سے ٹکرانا هے. کربلا میں صرف 72تھے هزاروں کے مقابلے میں اب هم لاکھوں هیں ان بے دینوں کو مٹانا هے. اب عباس کا علم اٹھاؤ اور میدان جنگ میں آؤ چھپ چھپ کے وار کرنا یه ان کا شیوا پرانا هے. اگر هے ان میں همت تو سامنے آئیں گے ورنه یه اپنے پیاروں کی طرح میدان چھوڑ جائیں گے. یه همارے صبر کو آزما رهے هیں بار بار اب نعره حیدری کی طاقت کو هم نےبهی آزمانا هے هم مر جائیں گے مگر پیچھے نه هٹیں گے ایک اور کر بلا اب هم بنا دیں گے. حکومت وقت کا فرض هے سمجھا لے ان چند بے دینوں کو. ورنه همیں اجازت دے انکو سبق سیکھانا هے.هم مر تو رهے هیں هر روز اور موت بهی هے بر حق مگر اب یوهی مرنا بار بار همیں ناگوارا هے

Salam Ya Mola Ghazi Abbas Alam Dary Wafa A.s Madad......

Abbas(a.s) k Qadmon ko wafa choom rhi hai
Pehlu Mai shujaAt bhi khari jhoom rhi hai
Haider(a.s) k ishare pe palat aya tha sooraj
Ghazi(a.s) k ishare pe zameen ghoomrhi hai 





Shaaban ki khushion k ye wajdan mubarak!

Pehli ko yahan Zainab-e-athar S.A ki hy aamad ! 
Ik parda nasheen Haider-e- Safdar A.S ki hy amad,
Aur 3 ko Firdous k Sarwar ki hy amad !
Aur 4 ko Abbas-e-Dilawar A.S ki hy amad
Haftam ko Hassan pak A.S k dilbar ki hy amad ! 
11 ko Humshakl-e-Pyambr A.S ki hy amad, 
15 ko mila Aakhri Sultan AJf mubarak ! 
Shaban ki khushion k ye wajdan mubarak..

A Saudi activist has martyred of injuries sustained in a police 

shooting in the town of Awamiyah in Eastern Province.

Saudi Arabia’s official news agency SPA said on Sunday that regime forces opened fire at Morsi Ali Ibrahim al-Rabah when they tried to arrest him over allegations of involvement in anti-regime protests.

An interior ministry spokesman said that Rabah was on a list of 23 Shia activists wanted in connection with protests in Awamiyah.

“He was wounded and died in hospital,” the spokesman said.

Rabah was the 18th victim of the Saudi regime’s crackdown on protesters in the Qatif region since 2011.

On June 21, Saudi regime forces killed a young man during a raid on the houses of anti-regime activists in the village of al-Tubi in Qatif. Police shot the 19-year-old in the head and shoulder.



Imam ul Mutaqeen, King of Arifeen Hazrat Imam Ali (as) said

"I am the shepherd-the shepherd of people. Is it acceptable that a shepherd does not identify his sheep?" Juwairiya stood up and asked: "O Amir ul-Mu'minin, who are your sheep?" He (a) answered: "My sheep are pale-faced and dry-lipped because of the mention of Allah."

Ref: Bihar ul-Anwar; 68:176 H.32.
Dear Awaited Imam Mahdi (a.j.t.f.s)




If I knew why I write
I probably would not be writing to you
I write not because I want to
I write not because I have to
I write because I'm taken back by your reality
I write to empty the tears in my pen
I write because I could not write before
Until that day
When you took a step followed by another
Into my home
Upon ebullient breaths of dawn
You greeted my pen one morn
I write because it's seen your soul
And it's tripped over its lines
And fallen
Into and unto its pages
Pages only my heart can read
As my pen sits upon its podium
Writing away
With the flow of ink
Steady and thick
A little twist and turn here
Into letters forming what I think
Reflected in these letters is a portrait
Underneath the paint a tangle of confusion
Hope and fear
As if I've birthed a thousand stars
Yet darkness surrounds me everywhere
I offer you my self portrait
So you may consider my soul
Knowing I can only reach you through words
Knowing you are reading this somewhere
So what if
What if you were a boat sailing into my imagination
Sailing so deep you collided with the rocks of reality
What if the figments of my imagination are shadows of what's real?
As my mind sits under my heart's tree
Venting thoughts by building cities out of mist
And palaces on the sea
Weaving words into gaps once left by reality
What if the Mahdi appears in us?
Standing against the wall of our hearts
Before he appears against that cubic wall
What if the second coming is the return of the light we were born with?
Unshackling our souls so we may help unshackle the world
I begin to float on the breeze of understanding
Knowing with every heartbeat there's an echo of your footsteps down the hallway
Of time
But here I am, still broken
Falling between these cracks hiding
Flying dreams from land to land
In-between where mountains stand
With words offering my hand
To be taken away with you...
Sunta hoon


Sunta hoon Ghareebon pe taras khatay ho Aaqa

Mushkil main har ik shakhs k kaam aatay ho Aaqa
Majboor zamaanay main jisay paatay ho Aaqa
Tum us pa nazar lutf ki farmatay ho Aaqa



Ranjoor hon main ek nazar meri taraf bhi



ﺳﻼﻡ ﻋﺒﺎﺱ ﯾﺎ ﻣﻮﻻ ﻋﻠﯿﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ

Babul hawaij iss liye Moula (a.s.) ka hai laqab
Darbar ye buhat bare haajat rawa ka hai -
Mushkil ki kya majaal ke aasan ho na jaye -
Abbas (a.s.) naam dossra Mushkil Kusha ka hai



Saudi Forces Kill a Shia Boy 'Ali Hassan Al Mahrous' in 

Qatif

Saudi regime forces have killed a 19 year-old boy during a raid on the houses of anti-regime activists in the At Tubi area of Saudi Arabia's eastern region of Qatif. 


'Ali Hassan al Mahrous', 19, was martyred yesterday night when Saudi forces shot him one in shoulder and 2 bullets in the head. He was from village of Alkhoeldeh of Saudi Arabia's eastern region of Qatif.